نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، وفاقی اور صوبائی تعلیمی اداروں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنائے جائیں ،سپیکر قومی اسمبلی

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، وفاقی اور صوبائی تعلیمی اداروں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنائے جائیں

اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، وفاقی اور صوبائی تعلیمی اداروں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنائے جائیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ایس ڈی جیز پارلیمانی ٹاسک فورس کے زیرِ اہتمام "ہم ہیں پاکستان” کے عنوان سے ایس ڈی جیز یوتھ کیمپین/ٹریننگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں ارکانِ پارلیمان، تعلیمی ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں، طلبہ اور مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد قومی ترقی میں نوجوانوں کی شمولیت اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا تھا۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی عمل، جمہوری طرزِ حکمرانی اور پائیدار ترقی میں نوجوانوں کی شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قائم ایس ڈی جیز ٹاسک فورس پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کو قومی پالیسیوں میں شامل کرنے، وفاقی اور صوبائی قانون ساز اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں پائیدار ترقی کے اہداف کے فروغ کو یقینی بنانے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ تمام صوبوں میں قوانین کی یکسانیت اور ادارہ جاتی ترقی کے لئے مؤثر اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ قومی اسمبلی نے صوبائی قانون ساز اداروں کو مختلف پارلیمانی کاکسز جن میں ویمن کاکس اور چائلڈ رائٹس کاکس شامل ہیں، کے قیام کی تربیت فراہم کی ہے، جو اب تمام صوبائی اسمبلیوں میں فعال ہیں۔سپیکر قومی اسمبلی نے 2024 کی اسپیکرز کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس نے ملک بھر کی صوبائی اسمبلیوں اور قانون ساز اداروں کے درمیان روابط اور تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے وفاقی جامعات اور صوبائی تعلیمی اداروں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تحقیق، نوجوانوں کی شمولیت اور رضاکارانہ خدمات کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے طلبہ، ریسرچ ایسوسی ایٹس اور نوجوان رضاکاروں پر قومی ترقی اور پائیدار پیشرفت میں فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی نوجوانوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز ایس ڈی جیز اقدامات کو فعال اور مؤثر بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا۔اس موقع پر پارلیمانی ٹاسک فورس برائے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کی کنوینر شائستہ پرویز نے کہا کہ "ہم ہیں پاکستان” مہم کا مقصد طلبہ کو قومی ترقی میں فعال شراکت دار بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب نوجوانوں کو آگاہی، قیادت کی صلاحیتوں، شہری ذمہ داری اور عملی مواقع فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مہم طلبہ کی زیرِ قیادت منصوبوں، مینٹورشپ پروگرامز، ادارہ جاتی ایس ڈی جیز فوکل پرسنز اور کمیونٹی انگیجمنٹ کو فروغ دے گی تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف کو عملی حقیقت بنایا جا سکے۔تقریب کے دوران فاؤنڈنگ ڈائریکٹر/سی ای او انٹرنیشنل گورننس اینڈ سسٹین ایبلٹی انسٹی ٹیوٹ (IG-SI) ڈاکٹر سلطان اعظم تیموری نے "ہم ہیں پاکستان” ایس ڈی جی یوتھ کمپین اور ٹریننگ اقدام پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک منظم یوتھ لیڈ اقدام ہے جس کا مقصد اسلام آباد میں سکولوں، کالجوں اور جامعات میں "لرننگ + ایکشن” ماڈل کے تحت ایس ڈی جی تعلیم اور عملی اقدامات کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے تاکہ طلبہ کو فعال تبدیلی ساز بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم ایس ڈی جیز پارلیمانی ٹاسک فورس کی قیادت میں انٹرنیشنل گورننس اینڈ سسٹین ایبلٹی انسٹی ٹیوٹ (IG-SI)، یونائیٹڈ پیس کیپرز فیڈرل کونسل (UNPKFC) اور وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے اشتراک سے جاری ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے پانچ سالہ قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے “اُڑان پاکستان” سے ہم آہنگ ہے، جو 5E فریم ورک (ایکسپورٹس، ای-پاکستان، ماحولیات، توانائی و انفراسٹرکچر، اور مساوات و بااختیاری) پر مبنی ہے اور ایجنڈا 2030 کے اہداف کے حصول میں معاونت فراہم کرتا ہے۔پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ سرکاری سکولوں کے پرنسپلز کو اس مکالمے کا مرکز بنانا خوش آئند ہے کیونکہ وہ تعلیمی تبدیلی کے حقیقی محرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ میں ایس ڈی جیز سے آگاہی بڑھ رہی ہے تاہم سرکاری سکولوں کے طلبہ اب بھی بڑی حد تک اس سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خلا ء کو پر کرنا "ہم ہیں پاکستان” کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے تعلیمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ایس ڈی جیز کو آسان، قابلِ فہم اور قابلِ تدریس بنائیں اور اس اقدام کو تمام صوبوں میں یکساں عزم اور ملکیت کے ساتھ نافذ کیا جائے تاکہ ہر پاکستانی بچہ اس کا حصہ بن سکے۔تقریب میں اراکینِ قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک، بیرسٹر دانیال چوہدری، سید علی قاسم گیلانی، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، میجر (ر) طاہر اقبال، سید حفیظ الدین، شیر علی ارباب اور مہتاب اکبر راشدی سمیت مختلف شخصیات نے شرکت کی۔