امریکی اور برطانوی ماہرین ماحولیات نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پرایک "سپر” ال نینو بحرالکاہل میں تیزی سے تشکیل پا رہا ہے لیکن اس کی حتمی شدت کا انحصار تیز ہواؤں اور دیگر غیر مستحکم ماحولیاتی تبدیلیوں پر ہو سکتا ہے۔
ممکنہ طور پرایک "سپر” ال نینو بحرالکاہل میں تیزی سے تشکیل پا رہا ہے ، ماحولیاتی ماہرین

مزید خبریں
لندن ۔22مئی (اے پی پی):امریکی اور برطانوی ماہرین ماحولیات نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پرایک "سپر” ال نینو بحرالکاہل میں تیزی سے تشکیل پا رہا ہے لیکن اس کی حتمی شدت کا انحصار تیز ہواؤں اور دیگر غیر مستحکم ماحولیاتی تبدیلیوں پر ہو سکتا ہے۔اے ایف پی کے مطابق تیزی سے گرم ہونے والا بحر الکاہل ایک بڑے واقعہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے لیکن تجارتی ہواؤں کے کمزور پڑنے کا عمل جو ال نینو کی ٹربو چارجنگ یا اس کی شدت کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،ابھی تک عمل میں نہیں آیا ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تعاملات پیچیدہ ہیں اور ان کی درست پیشین گوئی کرنا مشکل ہے جس کی وجہ سے ابھی اعتماد کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ال نینو کتنا طاقتور بن سکتا ہے۔یو ایس نیشنل اوشینک اینڈ ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے ) نے کہا کہ جولائی تک ال نینو کے تشکیل پانے کا تقریباً 80 فیصد امکان ہے۔
استوائی بحر الکاہل کے کلیدی ال نینو زونز میں سمندر کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور سطح کے نیچے غیر معمولی گرم پانی کا ایک بہت بڑا تالاب پھیل رہا ہے۔ کئی نمایاں موسمیاتی ادارے پیش گوئی کر رہے ہیں کہ بحر الکاہل کے درجہ حرارت میں اس سال کے آخر میں اوسط سے 2.5 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل 83 ۔ 1982، 98 ۔ 1997 اور 16 ۔ 2015 میں اور اس سے بھی بہت پہلے 78 ۔1877 میں ریکارڈ کیے گئے پہلے بڑے ال نینو کے دوران بحرالکاہل کے درجہ حرار ت میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ کا بڑا اضافہ ہو نوٹ کیا جا چکا ہے۔یو کے میٹ آفس میں طویل مدتی پیشین گوئی کے سربراہ ایڈم سکیف نے کہا کہ یہ ال نینو دہائیوں میں سب سے شدید یا "ریکارڈ طاقت کا حامل”بھی ہو سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہاں ضرور کچھ ہونے والا ہے۔ ہمیں اس کے بارے میں یقین ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک بڑا ایونٹ ہو گا۔
یو ایس نیشنل اوشینک اینڈ ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن نےپیشن گوئی کی ہے کہ اس بار بحرالکاہل کے درجہ حرارت میں 2 ڈگری اضافے کا ایک تہائی امکان جسے "سپر ال نینو” کہاجاتا ہے۔ال نینو موسم گرما میں سمندر اور فضا میں تیزی سے طاقتور ہو کر ہوا کے دباؤ، بادلوں کے نمونوں اور ہواؤں کو تبدیل کرتے ہیں۔یہ فیڈ بیک لوپ ایک معمولی ال نینو کو ایک بلاک بسٹر ایونٹ میں تبدیل کر سکتا ہے، جو گرمی کو سپر چارج کر سکتا ہے اور دنیا بھر میں موسمیاتی صورتحال خاص طور سے زیادہ بارشوں اور خشک سالی کی غیرمتوقع صورتحال پید ا کر سکتا ہے۔شدید ال نینو کی ایک پہچان تجارتی ہواؤں کا کمزور ہونا ہے جو خط استوا کے پار مشرق سے مغرب کی طرف چلتی ہیں۔لیکن یہ ہوائیں غیر متوقع طور پر مضبوط ہو سکتی ہیں۔جب ایسا ہوتا ہے، تو یہ ال نینو کو شدت اختیار کرنے سے روک دیتا ہے۔ال نینو کے زیر اثر دنیا کے مختلف حصوں میں 1998، 2010، 2016، 2023 اور 2024 میں شدید گرمی ریکارڈ کی گئی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 2026 میں سپر ال نینو کی صورت میں 2027 کے دوران ریکارڈ توڑ گرمی پڑ سکتی ہے۔








