12 سیکٹرز کی 273 عمارتیں: ایک لاکھ سے زائد عازمین کے لیے 490 بسوں کا صلوۃ ٹرانسپورٹ پلان نافذکردیا گیا ،انچارج ٹرانسپورٹ اجمل کھوسو

مکہ مکرمہ میں ایک منظم ٹرانسپورٹ پلان کے تحت العزیزیہ اور اس کے گردونواح کی 273 عمارتوں سے 1 لاکھ سے زائد پاکستانی عازمینِ حج کو پانچوں وقت کی نمازوں کے لیے حرم شریف لانے اور لے جانے کا سلسلہ جاری ہے ۔

مکہ مکرمہ ۔22مئی (اے پی پی):مکہ مکرمہ میں ایک منظم ٹرانسپورٹ پلان کے تحت العزیزیہ اور اس کے گردونواح کی 273 عمارتوں سے 1 لاکھ سے زائد پاکستانی عازمینِ حج کو پانچوں وقت کی نمازوں کے لیے حرم شریف لانے اور لے جانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس آپریشنل فریم ورک کے لیے 40 نشستوں کی گنجائش والی 490 جدید بسیں مختص کی گئی ہیں، جو روزانہ دوطرفہ طور پر 10,000 سے زائد چکر مکمل کر کے عازمین کو سفری سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ یہ پورا نظام مکہ مکرمہ کے تمام 12 سیکٹرز میں عازمین کی تعداد، عمارتوں اور گاڑیوں کے ایک باقاعدہ تناسب پر قائم کیا گیا ہے تاکہ نقل و حمل کو متوازن رکھا جا سکے۔انچارج ٹرانسپورٹ اجمل کھوسو کے مطابق اس ٹرانسپورٹ پلان کو عازمین کی تعداد کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے تا کہ عازمین کی تعداد اور بسوں کی شرح میں توازن قائم رہ سکے ۔ اس پلان کے تحت مکہ مکرمہ کے تمام 12 سیکٹرز میں بسیں تقسیم کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی زون پر دباؤ نہ بڑھے ۔ سب سے زیادہ لوڈ والے سیکٹر 1 (عزیزیہ) کے 14,143 عازمین کے لیے 54 بسیں اور سیکٹر 10 (بطحاء قریش و ہجرہ) کے 14,293 عازمین کے لیے 49 بسیں مسلسل روٹ پر متحرک ہیں ۔

اسی طرح عازمین کی شرح کے مطابق سیکٹر 2 میں 41 ، سیکٹر 3 میں 36 ، سیکٹر 4 میں 35 ، سیکٹر 5 میں 41 ، سیکٹر 6 میں 50 ، سیکٹر 7 میں 33 ، سیکٹر 8 میں 35 ، جبکہ نسیم سیکٹر (سیکٹر 9) کے لیے 60 بسیں ، سیکٹر 11 کے لیے 30 بسیں اور سیکٹر 12 کے لیے 25 بسیں مامور کی گئی ہیں ، جس کا مقصد ہر عازمِ حج کو اس کی رہائش گاہ کے قریب ترین پوائنٹ پر بس کی فوری دستیابی یقینی بنانا ہے۔انچارج ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ پاکستانی عازمین کی اطرافِ حرم تک آسان اور منظم رسائی کے لیے کدانہ، کدی، جرول اور ریع بخش کے 4 خصوصی ڈراپ پوائنٹس مختص ہیں، جن میں سے کدانہ 50 ہزار سے زائد عازمین کے ساتھ سب سے بڑا مرکز ہے جہاں عام حالات میں بسیں رہائشی بلڈنگ سے ڈراپ پوائنٹ تک کا سفر محض 18 سے 30 منٹ (اور سڑکیں مکمل صاف ہونے پر 10 سے 25 منٹ) میں طے کر لیتی ہیں۔

اس پورے نظام کو لائیو اور شفاف بنانے کے لیے حج مشن نے تاریخ میں پہلی بار بسوں کی آمد، روانگی اور لوکیشن کی سیکنڈ ٹو سیکنڈ مانیٹرنگ کے لیے ایک جدید ‘ٹریکنگ ایپ’ متعارف کرائی ہے، جبکہ عازمین کی آسانی کے لیے ہوٹلوں کی لابیوں میں بڑی اسکرینوں پر ‘صلوٰۃ ٹرانسپورٹ پبلک آرائیول سہولت ڈش بورڈ’ نصب کیا گیا ہے، جو عازمِ حج کو ہوٹل کے اندر بیٹھے ہی اگلی آنے والی بس کی درست لائیو ٹائمنگ ظاہر کر دیتا ہے تاکہ انہیں سڑک پر کھڑے ہو کر انتظار نہ کرنا پڑے۔اجمل کھوسو نے بتایا کہ عالمی سطح کے اس بڑے ٹرانسپورٹیشن آپریشن کو مکہ مکرمہ میں دنیا بھر کے لاکھوں عازمین کے بیک وقت سفر کرنے، سڑکوں پر سگنلز کی طویل بندش اور مقامی سعودی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی و دیگر بڑی سرگرمیوں کے باعث اچانک روڈ بلاکس یا ڈائیورژنز جیسے ناگزیر زمینی چیلنجز کا سامنا بھی رہتا ہے۔ ان عالمی سفری حالات کے باوجود، جہاں رش کے اوقات میں آمدورفت میں کچھ منٹوں کا اضافی وقت لگنا ایک معمول کا بین الاقوامی انتظامی خاصہ ہے، پاکستان حج مشن کا یہ اسمارٹ ڈیجیٹل سسٹم اور ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک عازمین کو تیز ترین، محفوظ ترین اور آرام دہ سفری سہولیات فراہم کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ثابت ہورہا ہے۔