فیصل آباد کے زرعی سائنسدان فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، ملکی معیشت کی ترقی و استحکام کیلئے شبانہ روز تحقیقی کاوشوں میں مصروف عمل ہیں، ڈاکٹر نوید احمد صدیقی

فیصل آباد۔ 23 مئی (اے پی پی):ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے نامور زرعی سائنسدان اور شعبہ اگرانومی کے چیف ڈاکٹر نوید احمد صدیقی نے کہاہے کہ زرعی شعبہ ملکی زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،یوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے زرعی سائنسدان فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، ملکی معیشت کی ترقی و استحکام کے لئے شبانہ روز تحقیقی کاوشوں میں مصروف عمل …

فیصل آباد۔ 23 مئی (اے پی پی):ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے نامور زرعی سائنسدان اور شعبہ اگرانومی کے چیف ڈاکٹر نوید احمد صدیقی نے کہاہے کہ زرعی شعبہ ملکی زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،یوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے زرعی سائنسدان فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، ملکی معیشت کی ترقی و استحکام کے لئے شبانہ روز تحقیقی کاوشوں میں مصروف عمل ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ زراعت حکومت پنجاب کی جانب سے انہیں گریڈ 20 میں ریگولر ہونے پر ادارہ کے زرعی سائنسدانوں و دیگر ملازمین کی طرف سے ان کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کلائمیٹ چینج کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مختلف فصلوں، سبزیوں، پھلوں، دالوں، تیلداد اجناس اور چارہ جات کی نئی اقسام متعارف کروانے کے ساتھ انکے وقت کاشت میں تبدیلیوں اور جدید پیداواری ٹیکنالوجی پر تحقیق کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اللہ کے کرم سے پاکستان کو خطہ میں حالیہ جنگی حالات کے باوجود فوڈ سکیورٹی کا کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔ پاکستان امسال گندم، دھان، مکئی، گنا سمیت سبزیوں اور پھلوں کی بہتر پیداوار حاصل ہونے کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں کمی نوٹ کی گئی ہے۔انہوں نے زرعی سائنسدانوں پر زور دیا کہ ملک کے موجودہ مشکل معاشی حالات میں جدید زرعی تحقیق کے مثبت نتائج کاشتکاروں کی دہلیز تک پہچانے کے لئے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے اور اس پر عمل درآمد سے ملک میں زرعی انقلاب کی راہ ہموار کی جائے۔انہوں نے اس موقع پر خصوصی عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اولین ترجیح زرعی تحقیق کے نتائج فیلڈ تک پہچانے میں فاصلوں کو مٹانا ہے۔ گندم، کپاس، دھان، مکئی اور دیگر اہم فصلوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے جدید سائنسی بنیادوں پر ریسرچ ورک کو تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ زرعی سائنسدانوں، اکیڈیمیا اور فیلڈ افسران کے باہمی تعاون کو مضبوط بناکر زراع کی پائیدار ترقی کے حصول کو مستقل بنیادوں پر مستحکم کرسکتے ہیں۔

مزید خبریں