چین کا 2030 تک شہری کچرے کی ری سائیکلنگ شرح 76 فیصد تک بڑھانے کا ہدف

چین نے 2030 کے اختتام تک شہری گھریلو کچرے کی ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال کی شرح 76 فیصد سے زائد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

بیجنگ۔25مئی (اے پی پی):چین نے 2030 کے اختتام تک شہری گھریلو کچرے کی ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال کی شرح 76 فیصد سے زائد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ شنہوا کے مطابق یہ بات وزارت ہائوسنگ و اربن رورل ڈویلپمنٹ نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہی ۔یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک بھر میں شہری گھریلو کچرے کی درجہ بندی سے متعلق چوتھا قومی آگاہی ہفتہ شروع کیا گیا ہے جو 31 مئی تک جاری رہے گا۔ اس سلسلے میں وزارت نے بیجنگ میں قومی کانفرنس بھی منعقد کی۔وزارت کے ایک عہدیدار کے مطابق رواں سال حکومت کچرے کی درجہ بندی، کمی، وسائل کے مؤثر استعمال اور محفوظ تلفی کے اہداف پر مزید کام کرے گی۔ اس کے ساتھ پالیسی فریم ورک کو بہتر بنانے، قابلِ ری سائیکل مواد کے انتظام کو مضبوط کرنے اور ریکوری ریٹ بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ اعلیٰ معیار کی شہری ترقی اور خوبصورت چین کے وژن کو فروغ دیا جا سکے۔

عہدیدار نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران وزارت نے پائلٹ منصوبوں اور ماڈل پروگرامز کے ذریعے کچرے کی درجہ بندی کے نظام میں مسلسل پیش رفت کو یقینی بنایا ہے۔اس وقت چین کے 297 سے زائد پریفیکچرز کی سطح کے شہروں کی تقریباً تمام رہائشی کمیونٹیز میں کچرے کی درجہ بندی کا نظام نافذ کیا جا چکا ہے۔ ان شہروں نے اجتماعی طور پر کچرے کی درجہ بندی سے متعلق 199 مقامی قوانین و ضوابط نافذ کیے جبکہ 100 سے زائد تکنیکی معیارات بھی جاری کیے گئے۔وزارت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے اختتام تک چین بھر میں کچرا جلانے کے 1137 مراکز قائم تھے جن کی مجموعی یومیہ پراسیسنگ صلاحیت 11 لاکھ 80 ہزار ٹن تک پہنچ چکی ہے۔بیجنگ، ژیجیانگ اور شانڈونگ سمیت 15 صوبائی سطح کے علاقوں نے گھریلو خام کچرے کو زمین میں دفنانے کا عمل مکمل طور پر ختم کر دیا ہے جبکہ بڑے آلودگی پیدا کرنے والے اخراج پر کنٹرول کے اقدامات دنیا کے سخت ترین نظاموں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

مزید خبریں