اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے یوکرین بحران کے حل کے لیے فریقین پر مذاکرات اور بات چیت کی راہ اپنانے پر زور دیا ہے۔
چین کا یوکرین بحران کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔29مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے یوکرین بحران کے حل کے لیے فریقین پر مذاکرات اور بات چیت کی راہ اپنانے پر زور دیا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سن لی نے کہا کہ یوکرین جنگ طویل ہوتی جا رہی ہے اور حالیہ دنوں میں اس میں مزید شدت آئی ہے، جس کے باعث شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔چینی مندوب نے متعلقہ فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود اور امن کو ترجیح دی جائے، جنگ بندی کی جائے اور شہریوں و شہری تنصیبات پر حملے فوری طور پر روکے جائیں۔سن لی نے کہا کہ بحران کے پائیدار حل اور امن کے قیام کے لیے مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ امن کا راستہ مشکل ہو سکتا ہے، تاہم بات چیت ہمیشہ تصادم سے بہتر اور امن مذاکرات جنگ سے زیادہ قابل ترجیح ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چین امن کے قیام کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ متعلقہ فریق جلد مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے، ایک دوسرے کے جائز سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لیں گے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق جامع اور دیرپا امن معاہدے کی جانب پیش رفت کریں گے۔چینی مندوب نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر یوکرین بحران کے سیاسی حل اور خطے میں جلد امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔








