پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کی جرات، لگن اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، سینیٹر اسحاق ڈار
پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کی جرات، لگن اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، سینیٹر اسحاق ڈار

مزید خبریں
اسلام آباد۔29مئی (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کی جرات، لگن اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن کے موقع پر جمعہ کو وزارت خارجہ سے جاری بیان میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم اُن 183 پاکستانی امن اہلکاروں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے لیے فوجی دستے فراہم کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل رہا ہے۔
اب تک 270,000 سے زائد پاکستانی امن اہلکار دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے 48 مشنز میں شاندار خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور عزم، کثیرالجہتی نظام اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں پر پاکستان کے غیر متزلزل یقین کی عکاسی کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں اپنے وسیع تجربے کو دوسروں تک منتقل کرنے کے لیے پاکستان نے ’’سینٹر فار انٹرنیشنل پیس اینڈ اسٹیبلٹی‘‘ قائم کیا ہے، جس نے 50 سے زائد دوست ممالک کے افسران کو اقوامِ متحدہ کے امن مشنز سے متعلق پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے قدیم ترین امن مشنز میں سے ایک ’’اقوامِ متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان‘‘ کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔ خطے میں حالیہ پیش رفت اس مشن کی مسلسل اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور اس امر کو تقویت دیتی ہے کہ جموں و کشمیر تنازعے کا پرامن حل متعلقہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس سال یہ دن ایک ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کو غیر معمولی چیلنجز درپیش ہیں۔ یہ مشنز نہایت پیچیدہ سیاسی اور سکیورٹی ماحول میں کام کر رہے ہیں جبکہ انہیں شدید مالی اور عملی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئی سیاسی حمایت، مناسب اور قابلِ بھروسہ وسائل اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ عملی مینڈیٹس ناگزیر ہیں تاکہ ان کا محفوظ اور مؤثر نفاذ ممکن بنایا جا سکے۔
محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا ماننا ہے کہ امن مشنز میں اصلاحات ضروری ہیں اور یہ اصلاحات امن مشنز کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہونی چاہئیں۔ امن مشنز کو زیادہ چابکدست، بہتر وسائل سے آراستہ، جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور زمینی حقائق سے زیادہ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ امن محافظوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کو سزا سے بچنے نہ دینا نہ صرف متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے بلکہ مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام اور اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دینے والوں کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔پاکستان اپنے خواتین امن دستوں کی خدمات پر بھی فخر کرتا ہےجنہوں نے مختلف مشنز میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کی مؤثریت، ساکھ اور شمولیت کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
پاکستان امن مشنز میں خواتین کی بامعنی شرکت، خصوصاً عملی اور قائدانہ کرداروں میں مزید بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ رکن کی حیثیت سے پاکستان اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر امن مشنز کو مضبوط بنانے کے لیے کام جاری رکھے گا جس میں مینڈیٹس کی بہتر تشکیل، امن محافظوں کی سلامتی و تحفظ، احتساب کے فروغ اور پائیدار مالی وسائل کی فراہمی شامل ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ اس دن پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے جو بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے سب سے مؤثر، نمایاں اور عملی ذرائع میں سے ایک ہیں۔ ہم دنیا بھر میں خدمات انجام دینے والے تمام امن اہلکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور قیامِ امن کے مقصد کے لیے اپنی خدمات جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔








