دنیا بھر میں گزشتہ سال تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے مصدقہ واقعات میں 2024کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں تنازعات سے وابستہ جنسی تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جن میں غیر معمولی سفاکیت پائی گئی اور زیادہ تر متاثرین خواتین اور …
دنیابھر میں گزشتہ سال تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا، اقوام متحدہ کی رپورٹ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔30مئی (اے پی پی):دنیا بھر میں گزشتہ سال تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے مصدقہ واقعات میں 2024کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں تنازعات سے وابستہ جنسی تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جن میں غیر معمولی سفاکیت پائی گئی اور زیادہ تر متاثرین خواتین اور بچیاں تھیں۔رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران ایسے 9,788 مصدقہ واقعات درج کیے گئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 4,617 تھی۔
یہ رپورٹ سلامتی کونسل کو پیش کی گئی جسے گزشتہ روز میڈیا کے لیے جاری کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار اصل صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، کیونکہ جاری تنازعات، بدامنی، انسانی امداد تک محدود رسائی اور رپورٹنگ کے مسائل کے باعث متعدد واقعات منظر عام پر نہیں آاتے۔
مزید برآں، امن مشنز میں کمی اور بجٹ کٹوتیوں نے بھی خواتین کے تحفظ اور صنفی امور سے متعلق خصوصی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے۔رپورٹ میں 21 تنازعات سے متاثرہ ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے اور جنسی تشدد میں ملوث 77 فریقین ، جن میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر شامل ہیں، کا ذکر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پہلی بار دو ریاستی فریقین ، اسرائیلی مسلح و سکیورٹی فورسز اور روسی مسلح و سکیورٹی فورسز، کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ جمہوریہ کانگو میں سرگرم تین نئے غیر ریاستی گروہوں کا بھی اندراج کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنگی حکمت عملی، تشدد، دہشت گردی اور سیاسی جبر کے ہتھیار کے طور پر جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف علاقوں میں شہریوں کو اجتماعی زیادتی، اغوا اور جنسی غلامی جیسے جرائم کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اغوا اور انسانی سمگلنگ کے دوران جنسی استحصال اور تشدد کو دہشت گردی کی ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ بے گھر، مہاجر اور نقل مکانی کرنے والی خواتین اور بچیاں خاص طور پر زیادہ خطرات سے دوچار رہیں۔دستاویز کے مطابق حراستی مراکز میں بھی جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں اسرائیل و فلسطین اور روس و یوکرین کے تناظر میں پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔
اقوام متحدہ نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے مرتکبین کو سزا سے استثنیٰ حاصل رہا۔ رپورٹ کے مطابق فہرست میں شامل 65 فیصد سے زائد فریق ایسے ہیں جو پانچ یا اس سے زیادہ سال سے مسلسل ان جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں، تاہم انہوں نے اصلاحی یا تدارکی اقدامات نہیں کیے۔
C








