دنیا بھر میں 13 سے 15 سال کی عمر کے 4 کروڑ بچے تمباکو کی مصنوعات استعمال کر رہے ہیں، جبکہ نوجوانوں میں الیکٹرانک سگریٹس اور نیکوٹین پاؤچز کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق 31 مئی کو عالمی یومِ انسدادِ تمباکو سے قبل، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے دنیا بھر کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نئی نسل …
عالمی ادارہ صحت کی حکومتوں سے نوجوانوں کو تمباکو اور نیکوٹین کی لت سے بچانے کی اپیل

مزید خبریں
جنیوا۔30مئی (اے پی پی):دنیا بھر میں 13 سے 15 سال کی عمر کے 4 کروڑ بچے تمباکو کی مصنوعات استعمال کر رہے ہیں، جبکہ نوجوانوں میں الیکٹرانک سگریٹس اور نیکوٹین پاؤچز کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق 31 مئی کو عالمی یومِ انسدادِ تمباکو سے قبل، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے دنیا بھر کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نئی نسل کو تمباکو اور نیکوٹین کی لت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو اور نیکوٹین کمپنیاں جان بوجھ کر اپنی مصنوعات کو اس انداز میں تیار کر رہی ہیں کہ وہ زیادہ پرکشش، آسان استعمال اور چھوڑنے میں مشکل ہوں، خاص طور پر نوعمراور نوجوانوں کے لیے۔
عالمی ادارۂ صحت کے شعبہ صحت کے تعین کنندگان، فروغ اور روک تھام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایٹین کرگ نے کہا کہ اگرچہ تمباکو ہر سال لاکھوں جانیں لے رہا ہے، لیکن بڑی کمپنیاں اپنی کاروباری حکمتِ عملی بدل کر اب بھی نقصان دہ سگریٹس سے منافع کما رہی ہیں اور ساتھ ہی ذائقہ دار الیکٹرانک سگریٹس، نیکوٹین پاؤچز اور دیگر مصنوعات کو فروغ دے رہی ہیں تاکہ نئی نسل کو اس لت میں مبتلا کیا جا سکے۔نیکوٹین انتہائی حد تک نشہ آور اور نقصان دہ ہے، خاص طور پر زیادہ مقدار میں، اور یہ بچوں، نوعمر اور نوجوانوں کے لیے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ان کے دماغ ابھی نشوونما کے مرحلے میں ہوتے ہیں۔
حکومتیں ذائقہ دار مصنوعات پر پابندی، اشتہارات اور تشہیر پر پابندی، اندرونی عوامی مقامات کو مکمل طور پر دھوئیں اور ویپ سے پاک بنانے، اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے ذریعے لوگوں کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔عالمی ادارۂ صحت نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ نیکوٹین پاؤچز، جو تیزی سے مقبول ہونے والی مصنوعات ہیں، کو سوشل میڈیا پر انفلوئنسرز کے ذریعے جارحانہ انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے، اور ان کی مارکیٹنگ طرزِ زندگی اور مختلف ذائقوں کے ذریعے نوجوانوں کو ہدف بنا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 160 ممالک میں نیکوٹین پاؤچز کے لیے کوئی مخصوص قوانین موجود نہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں ان کی فروخت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور لاکھوں افراد غیر محفوظ ہیں۔ رنگ برنگی پیکنگ، مٹھائی جیسے ذائقے اور انفلوئنسر مہمات وہی طریقے ہیں جو دیگر نیکوٹین مصنوعات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جن کا بنیادی مقصد لوگوں کو اس خطرناک لت میں مبتلا کرنا ہے۔تمباکو کے استعمال سے ہر سال 70 لاکھ سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
یہ دنیا بھر میں قابلِ روک اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے اور دل کی بیماریوں، سانس کی بیماریوں اور کینسر کی 20 سے زائد اقسام سے منسلک ہے۔عالمی ادارۂ صحت نے دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد تمباکو، الیکٹرانک سگریٹ اور نیکوٹین پاؤچ استعمال کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 31 مئی کو اپنی لت چھوڑنے کی طرف پہلا قدم اٹھائیں اور اس انحصار سے آزادی حاصل کریں۔








