مناسکِ حج کے دوران ضیوف الرحمن کی سکیورٹی، حفاظت اور مشائر مقدسہ میں ہجوم کو منظم کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی جدید سمارٹ پلیٹ فارم ’’رؤى‘‘ کا آپریشنل امور میں کلیدی کردار رہا ہے،
مناسکِ حج کے دوران سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے سکیورٹی اور ہجوم کو منظم کرنے والے سمارٹ سعودی سسٹم ‘رؤى’ کا کلیدی کردار رہا

مزید خبریں
مکہ مکرمہ۔1جون (اے پی پی):مناسکِ حج کے دوران ضیوف الرحمن کی سکیورٹی، حفاظت اور مشائر مقدسہ میں ہجوم کو منظم کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی جدید سمارٹ پلیٹ فارم ’’رؤى‘‘ کا آپریشنل امور میں کلیدی کردار رہا ہے، جس نے 2,000 سیٹلائٹ تصاویر اور 126 فضائی مانیٹرنگ آپریشنز کے ذریعے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو مانیٹرنگ کو یقینی بنایا۔ شاہ عبدالعزیز سٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی (کاکسٹ) نے یہ سسٹم سعودی وزارت داخلہ کے پبلک سکیورٹی نیٹ ورک کے لیے خاص طور پر تیار کیا تھا۔یہ جدید پلیٹ فارم ریموٹ سینسنگ اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (GIS) کی مدد سے مناسک کے دوران ٹریفک کی روانی اور ہجوم کی صورتحال کا لائیو تجزیہ کرتا رہا۔ سسٹم کے تمام مراحل مکمل طور پر خودکار ہیں، جس نے کسی بھی ہنگامی صورتحال یا غیر منظم پیٹرن کی صورت میں فوری طور پر فیلڈ رپورٹس جنریٹ کر کے سکیورٹی اداروں کے ردعمل کی رفتار کو تیز تر بنائے رکھا۔
تکنیکی حکام کے مطابق اس سسٹم نے سکیورٹی مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ مشاعر مقدسہ میں زمین کی سطح کے درجہ حرارت اور گرم ترین زونز کا اعلیٰ درجے کا تجزیہ بھی فراہم کیا۔ اس جامع ماحولیاتی ریڈنگ کی بدولت فیلڈ میں تعینات انتظامی ٹیموں کو شدید گرمی کے دوران حجاج کرام کے لیے انتظامات کو فوری بہتر بنانے میں بڑی مدد ملی۔یہ سمارٹ پلیٹ فارم پبلک سکیورٹی کے مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے براہ راست منسلک ہے، جس کا انٹرایکٹو انٹرفیس فیلڈ فورس کو رئیل ٹائم میں ڈیٹا فراہم کرتا رہا۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے جہاں سکیورٹی اداروں کی آپریشنل تیاری مضبوط ہوئی، وہاں اللہ کے مہمانوں کے لیے حج کے تمام مناسک کو محفوظ، آسان اور منظم بنانے میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔








