سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ ضمانت کے مرحلے پر عدالتیں ایسے مصدقہ سرکاری ریکارڈ کو نظر انداز نہیں کر سکتیں جو استغاثہ کے مقدمے پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہو جبکہ وقوعہ کے بعد تکمیلی بیان کے ذریعے کسی شخص کو نامزد کرنے اور اس کی شناخت کے دعوے کو بھی احتیاط سے جانچنا ضروری ہے۔
مصدقہ سفری ریکارڈ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔1جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ ضمانت کے مرحلے پر عدالتیں ایسے مصدقہ سرکاری ریکارڈ کو نظر انداز نہیں کر سکتیں جو استغاثہ کے مقدمے پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہو جبکہ وقوعہ کے بعد تکمیلی بیان کے ذریعے کسی شخص کو نامزد کرنے اور اس کی شناخت کے دعوے کو بھی احتیاط سے جانچنا ضروری ہے۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جمشید راشد کی قبل از گرفتاری ضمانت سے متعلق اپیل منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار کا نام ابتدائی ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا بلکہ وقوعہ کے کئی روز بعد تکمیلی بیان کے ذریعے اسے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم وقوعہ کے بعد سعودی عرب روانہ ہو چکا تھا اور اس کا سفری ریکارڈ اس کی بیرون ملک موجودگی کی تصدیق کرتا ہے جبکہ استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ اسے بعد میں مقامی سطح پر شناخت کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ تکمیلی بیان کے ذریعے بعد ازاں کسی شخص کو نامزد کرنا بذات خود کمزور نوعیت کا ثبوت تصور کیا جاتا ہے خاص طور پر جب اس کی تائید آزاد اور قابل اعتماد شواہد سے نہ ہوتی ہو۔ عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر موجود سفری دستاویزات اور دیگر مواد استغاثہ کے مؤقف کی مزید جانچ کا تقاضا کرتے ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ اسی مقدمے میں نامزد تین شریک ملزمان کو پہلے ہی ضمانت دی جا چکی ہے لہٰذا یکساں سلوک کے اصول کے تحت درخواست گزار بھی اسی رعایت کا مستحق ہے۔سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ قبل از گرفتاری ضمانت کا مقصد شہریوں کو بدنیتی پر مبنی کارروائی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر ضروری گرفتاری سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ ریکارڈ کی روشنی میں درخواست گزار مزید تفتیش کا حقدار ہے۔عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا اور جمشید راشد کی قبل از گرفتاری ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں اور اسی مالیت کے ایک ضامن کے عوض بحال کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ فیصلے میں کیے گئے مشاہدات ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ٹرائل کے دوران مقدمے کے حتمی فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔








