غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 میں کیے گئے وعدوں پر مکمل عمل درآمد کرنا ناگزیر ہے، پاکستان

پاکستان نے مشرق وسطیٰ سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سہ ماہی اجلاس میں قرارداد 2803 پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئےاس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، مستقل جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مقررہ مدت پر مبنی سیاسی عمل کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ۔29جولائی (اے پی پی):پاکستان نے مشرق وسطیٰ سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سہ ماہی اجلاس میں قرارداد 2803 پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئےاس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، مستقل جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مقررہ مدت پر مبنی سیاسی عمل کی ضرورت ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ 2025 کی جنگ بندی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے نے انسانی بحران میں کمی اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت و ریاست کے قیام کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تاہم ان اقدامات پر مکمل عمل درآمد میں تاخیر فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرنا ناگزیر ہے، بصورت دیگر منصفانہ اور دیرپا امن کی امیدوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس اجلاس کی صدارت جمہوریہ کانگو (ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو)نے کی، جو جولائی کے مہینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا صدر ہے۔ پاکستانی مندوب نے اسرائیلی آبادکاری میں مسلسل توسیع ، نئی یہودی بستیوں کے قیام اور آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی آبادیاتی اور جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کر رہے ہیں۔

انہوں نے نام نہاد ’’کرمسن تھریڈ‘‘ منصوبے کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت وادی اردن میں تقریباً 500 کلومیٹر طویل دیواروں اور فوجی سڑکوں کا نیٹ ورک تعمیر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے فلسطینی آبادی کو مزید تقسیم کیا جا رہا ہے اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کی جغرافیائی وحدت متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی اور امن منصوبے کے بعض حصوں پر عمل درآمد سے غزہ میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن اب بھی 59 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے جبکہ جنگ بندی کے بعد بھی 1,100 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جو منصوبے پر مکمل عمل درآمد پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ کے تقریباً 2 ملین افراد اب بھی صرف 30 فیصد علاقے تک محدود ہیں اور انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ غزہ کے آرپار ایک وسیع مٹی کی رکاوٹ (Earthen Barrier) تعمیر کی جا رہی ہے، جس سے اسرائیل کا قبضہ اور کنٹرول مزید مضبوط ہوگا اور غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر اس کا عملی کنٹرول قائم ہو جائے گا۔

پاکستان نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اسرائیلی آبادکاری کی تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند کی جائیں،فلسطینی علاقوں کے الحاق، جبری بے دخلی اور آبادیاتی تبدیلی کی ہر کوشش کو مسترد کیا جائے،فلسطینی عوام کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کیا جائے،شہریوں کے خلاف جرائم کے ذمہ دار افراد کا احتساب کیا جائے، فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے مالی وسائل فوری اور غیر مشروط طور پر جاری کیے جائیں تاکہ بنیادی عوامی خدمات جاری رہ سکیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ منصفانہ اور پائیدار امن کا واحد قابلِ اعتماد راستہ 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار، مربوط اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش رکھتا ہے اور تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی کم کرنے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے کی اپیل کی۔ لبنان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے جبکہ پاکستان لبنان میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے امریکی سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے۔ یمن کے بارے میں پاکستان نے یمنی عوام کی قیادت میں سیاسی عمل کی حمایت کا اعادہ کیا اور سعودی عرب پر حملوں اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ کے تنازع میں گھسیٹنے کی کوششوں پر گہری تشویش رکھتا ہے اور مملکت کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

مزید خبریں