قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے (این سی سی آئی اے) نے وکیل ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی سے متعلق مقدمے میں سپریم کورٹ کے 12 مئی کے حکم نامے کو واپس لینے کی درخواست دائر کر دی ہے
این سی سی آئی اے کی ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کیس میں 12 مئی کا حکم نامہ واپس لینے کی استدعا

مزید خبریں
اسلام آباد۔1جون (اے پی پی):قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے (این سی سی آئی اے) نے وکیل ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی سے متعلق مقدمے میں سپریم کورٹ کے 12 مئی کے حکم نامے کو واپس لینے کی درخواست دائر کر دی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ 12 مئی کے حکم نامے میں سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کو بعض ہدایات جاری کی تھیں حالانکہ سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کرنا متعلقہ ہائیکورٹ کا اختیار ہے اور اسے فریقین کو سننے کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔این سی سی آئی اے نے موقف اپنایا کہ یکساں سلوک کی پالیسی کے تحت سپریم کورٹ کو اپنا مذکورہ حکم نامہ واپس لینا چاہیے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ محض بار کے ارکان ہونے کی بنیاد پر کسی خصوصی رعایت یا امتیازی سلوک کے مستحق نہیں ہو سکتے۔درخواست گزار کے مطابق ہائیکورٹ کی جانب سے دوسرے فریق کو سننے کے لیے نوٹس جاری کرنے کے اقدام کے خلاف براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 12 مئی 2026ء کا حکم نامہ واپس لیا جائے تاکہ مقدمہ قانون کے مطابق متعلقہ ہائیکورٹ میں آگے بڑھ سکے۔واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی سے متعلق مقدمہ عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہے جبکہ این سی سی آئی اے نے سپریم کورٹ سے اپنے سابقہ حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔








