گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیاں اس وقت کرہ ارض کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہیں، مشیر ترقی نسواں بلوچستان

وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے عالمی یومِ ماحولیات کی مناسبت سے جاری کردہ اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیاں اس وقت کرہ ارض کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

کوئٹہ۔ 04 جون (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے عالمی یومِ ماحولیات کی مناسبت سے جاری کردہ اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیاں اس وقت کرہ ارض کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو گزشتہ چند برسوں میں خشک سالی اور غیر متوقع شدید سیلابوں جیسی ماحولیاتی آفات کا براہ راست نشانہ بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دن کو منانے کا اصل مقصد عوام میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور قدرتی وسائل کے درست استعمال کا شعور بیدار کرنا ہے تاکہ ماحولیاتی بگاڑ کو روکا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ زمین ہمیں زندگی دیتی ہے اور اس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے، اگر ہم نے آج اپنے ماحول کو بچانے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی، اس لیے درخت لگانا اب محض ایک صحت مند مشغلہ نہیں بلکہ ایک قومی اور اخلاقی فریضہ بن چکا ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان ان ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، باوجود اس کے کہ عالمی کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ صوبے کا ستر فیصد سے زائد حصہ بنجر یا نیم بنجر اراضی پر مشتمل ہے، جہاں زیر زمین پانی کی سطح سالانہ دو سے تین میٹر تک گر رہی ہے جو کہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں جنگلات کا کل رقبہ معیار کے مطابق پچیس فیصد ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے یہ اس وقت پانچ فیصد سے بھی کم ہے، جسے جنگی بنیادوں پر بڑھانے کی سخت ضرورت ہے۔ان سنگین خطرات کے پیش نظر حکومتِ بلوچستان نے حالیہ برسوں میں کئی اہم اور عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ایک جامع کلائمیٹ چینج پالیسی تشکیل دی گئی ہے، جس کے تحت پانی کے ذخائر کے تحفظ اور آفات سے نمٹنے کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر پر کام جاری ہے۔ جنگلات کے رقبے کو بڑھانے کے لیے صوبے بھر میں وسیع پیمانے پر شجرکاری مہمات شروع کی گئی ہیں جن میں مقامی درختوں کی کاشت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اس کے ساتھ ہی، زیر زمین پانی کی سطح کو مزید گرنے سے روکنے کے لیے مختلف اضلاع میں چیک ڈیمز اور تاخیری بند تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکے، جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے یکبارگی استعمال ہونے والے پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی کے قانون پر بھی عملدرآمد تیز کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے گھروں سے پلاسٹک کے یکبارگی استعمال کا خاتمہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک اور اس سے تیار کردہ مصنوعات ہمارے آبی ذخائر اور مٹی کو تباہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ پر زور دیا کہ وہ "کلین اینڈ گرین بلوچستان” مہم کا حصہ بنیں اور ہر شہری کم از کم دو پودے لگا کر ان کی پرورش کی ذمہ داری خود لے تاکہ ماحولیاتی چیلنجز سے بہتر طریقے سے نمٹا جاسکے۔

مزید خبریں