فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ اور نائب صدرقراة العین نے پاکستان ویمن اکنامک چارٹر 2035کے اجرا ءکے موقع پرپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی تقریباً 13کروڑ خواتین ملک کی 52فیصد آبادی اور انسانی سرمایہ ہیں، پاکستان کی 13کروڑ خواتین کو قومی معاشی فیصلہ سازی سے باہر نہیں رکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی 13کروڑ خواتین کو قومی معاشی فیصلہ سازی سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، عاطف اکرام شیخ،قراة العین

مزید خبریں
لاہور۔4جون (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ اور نائب صدرقراة العین نے پاکستان ویمن اکنامک چارٹر 2035کے اجرا ءکے موقع پرپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی تقریباً 13کروڑ خواتین ملک کی 52فیصد آبادی اور انسانی سرمایہ ہیں، پاکستان کی 13کروڑ خواتین کو قومی معاشی فیصلہ سازی سے باہر نہیں رکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواتین کوئی اقلیتی طبقہ نہیں بلکہ پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت اور انسانی سرمایہ ہیں۔ اس کے باوجود قومی بجٹ کی تیاری کے دوران خواتین کاروباری قیادت، ویمن چیمبرز، خواتین صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور کاروباری خواتین کی نمائندہ تنظیموں سے موثر مشاورت نہیں کی گئی۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہم کوئی خصوصی رعایت نہیں مانگ رہے، ہم صرف نمائندگی مانگ رہے ہیں۔قراة العین نے مزید کہا کہ بجٹ سازی کے پورے عمل میں خواتین کی معاشی ترجیحات کو منظم اور ادارہ جاتی انداز میں شامل کرنے کا کوئی مثر طریقہ کار موجود نہیں۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر خزانہ سے مطالبہ کیا کہ آئندہ تمام بجٹ مشاورت، معاشی پالیسی سازی، ترقیاتی منصوبہ بندی اور اقتصادی اصلاحات کے عمل میں خواتین کی نمائندہ قیادت کو باضابطہ طور پر شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے بارے میں کوئی فیصلہ، خواتین کی شمولیت کے بغیر نہیںیہ اصول قومی پالیسی کا حصہ بنایا جانا چاہیے کیونکہ خواتین کو متاثر کرنے والے معاشی فیصلے خواتین کی شمولیت کے بغیر نہیں کیے جا سکتے۔قراة العین نے کہا کہ پاکستان ویمن اکنامک چارٹر 2035 دراصل پاکستان کی معاشی ترقی، مسابقت، برآمدات، سرمایہ کاری اور خوشحالی کا جامع روڈ میپ ہے۔
نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے وزیراعظم پاکستان کے زیر سرپرستی ایک قومی ویمن اکنامک کونسل کے قیام کی تجویز بھی پیش کی جس میں وزارت خزانہ، پلاننگ کمیشن، اسٹیٹ بینک، ایف پی سی سی آئی، ویمن چیمبرز، نجی شعبے اور دیگر متعلقہ اداروں کی نمائندگی شامل ہو تاکہ خواتین کی آواز کو قومی معاشی فیصلہ سازی میں مستقل بنیادوں پر شامل کیا جا سکے۔








