لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد حزب اللہ نے جنگ ​​بندی کو مسترد کردیا

لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 8 افراد کی شہادت کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو بلا ضرورت، ذلت آمیز اور شرمناک قرار دیتے ہوئے ساتھ جنگ ​​بندی کو مسترد کردیا ہے۔

بیروت۔5جون (اے پی پی):لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 8 افراد کی شہادت کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو بلا ضرورت، ذلت آمیز اور شرمناک قرار دیتے ہوئے ساتھ جنگ ​​بندی کو مسترد کردیا ہے۔بی بی سی کے مطابق حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے اپنے بیان میں اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کوئی بھی معاہدہ ہتھیار ڈالنے اور شکست تسلیم کرنےکے مترادف ہو گا۔بی بی سی کے مطابق اپنے ایک بیان میں انھوں نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو بلا ضرورت، ذلت آمیز اور شرمناک قرار دیا اوردعویٰ کیا کہ لبنانی عوام کا ایک بڑا حصہ ان مذاکرات کو دوٹوک طور پر مسترد کرتا ہے۔واضح رہے کہ لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 8 افراد شہید جبکہ کم از کم 8 زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کے دوران ایک اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔یہ پیش رفت لبنان اور اسرائیلی حکومتوں کے درمیان جنگ بندی کے منصوبے پر اتفاق کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔ اس معاہدے کا اعلان جمعرات کی صبح میں واشنگٹن میں کیا گیا تھا۔حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کے مجوزہ معاہدے کی شرائط کو مسترد کیے جانے کے بعد لبنان میں امن عمل کا مستقبل غیر یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔لبنان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ جمعرات کو مشرقی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں 5 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ جنوبی شہر صور کے قریب ایک اور حملے میں مزید 3 افراد مارے گئے۔ان حملوں کے نتیجے میں 8 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں 3 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران ایک ٹینک کمانڈر کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔