برطانیہ اور فرانس امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد تجارتی جہاز رانی کو دوبارہ محفوظ بنانے کی کوششوں کے تحت آبنائے ہرمز کوسمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے ایک وسیع بین الاقوامی مشن کی قیادت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں
آبنائے ہرمز کو مائنز سے پاک کرنے کامشن ،برطانیہ اور فرانس قیادت کو تیار

مزید خبریں
لندن ۔5جون (اے پی پی):برطانیہ اور فرانس امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد تجارتی جہاز رانی کو دوبارہ محفوظ بنانے کی کوششوں کے تحت آبنائے ہرمز کوسمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے ایک وسیع بین الاقوامی مشن کی قیادت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں،دونوں ممالک نے اس مشن کے بنیادی منصوبوں کو مکمل کر لیا ہے۔العربیہ نے ’’ بلومبرگ ‘‘ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مفاہمت تک پہنچنے کے چند دنوں کے اندر شروع ہو جائے گا۔رپورٹ کے مطابق متعدد ملکوں کے فوجی منصوبہ ساز مائنز کو ہٹانے کے آپریشنز میں شرکت کے لیے کوآرڈینیشن کے اعلیٰ مراحل تک پہنچ چکے ہیں، یہ وہ باروی سرنگیں ہیں جنہیں ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے کے کچھ حصوں میں بچھایا ہے۔ اس مشن میں 15 ملکوں کا اتحاد شامل ہوگا جنہوں نے پہلے ہی فوجی دستے اور ساز و سامان فراہم کرنے کا عہد کر رکھا ہے بشرطیکہ کچھ ممالک تجارتی شپنگ کمپنیوں کو یقین دہانی کرانے اور جہاز رانی کی آمد و رفت پر اعتماد بحال کرنے کے مقصد سے آپریشن شروع ہونے کے چند ہفتوں بعد اس میں شامل ہوں۔ اس کے لیے لاجسٹک تیاریاں تقریباً مکمل ہو چکی ہیں، تاہم کچھ اضافی ساز و سامان خاص طور پر خصوصی معاون جہازوں کی ضرورت اب بھی برقرار ہے۔رپورٹ کے مطابق دستوں کی تعیناتی اس وقت تک شروع نہیں ہوگی جب تک امریکا اور ایران کے درمیان ایسا معاہدہ طے نہ پا جائے جو تجارتی جہاز رانی کی آزادی کی مکمل بحالی اور آبنائے میں فوجی یونٹوں کے کام کے لیے ایک محفوظ ماحول کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہو۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل کہا تھا کہ ان کی افواج جہازوں کی آمد و رفت کو خطرے میں ڈالنے والی "زیادہ تر” بحری مائنز کو ہٹانے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سینیٹ کے سامنے کہا تھا کہ ایران نے آبنائے کے وسیع علاقوں میں مائنز بچھائی ہیں۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سےجنگ کے خاتمے کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرتے ہی آبنائے کو فوراً دوبارہ کھول دیا جائے گا۔مذکورہ یورپی اقدامات جنگ کے خاتمے کے بعد خلیج کی سکیورٹی یقینی بنانے میں برطانیہ اور فرانس کے ایک بڑا کردار ادا کرنے کی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں خاص طور پر حالیہ جنگ کے انتظام کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ اور امریکا کے یورپی اتحادیوں کے درمیان باہمی تنقید کے تناظر میں یورپی تیاریاں اہم سمجھی جارہی ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ اس مشن پر امریکا کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد باروسی سرنگوں کو ہٹانے اور تجارتی جہازوں کو محفوظ بنانے یا ضرورت پڑنے پر ان کے ساتھ حفاظتی دستے بھیجنے کی اضافی صلاحیتیں فراہم کرنا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا کیا ہے کہ برطانیہ اور فرانس اس مشن کے آپریشنل پہلوؤں کے بارے میں تہران کے ساتھ رابطے کے چینلز کھولنے کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ ایران نے باروسی سرنگیں ہٹانے کے آپریشنز خود کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن دونوں یورپی دارالحکومتوں کا خیال ہے کہ ایرانی صلاحیتیں مطلوبہ رفتار سے مشن کو مکمل کرنے کے لیے کافی نہیں ۔ اس سلسلے میں برطانوی رائل نیوی نے جبرالٹر سے اس علاقے کی طرف سپورٹ جہاز ’’ آر ایف اے لیمے بے ‘‘ روانہ کیا ہے،یہ بحری مائنز کا پتہ لگانے اور ان سے نمٹنے کے لیے جدید اور بغیر پائلٹ کے چلنے والے سسٹمز سے لیس ہے۔ اس مشن کی کامیابی عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام بحال کرنے اور دنیا کی اہم ترین سٹریٹجک گزرگاہوں میں سے ایک کے ذریعے تیل کے بہاؤ کو یقینی بنانے میں ایک فیصلہ کن عنصر ثابت ہوگی۔








