وزیر اعظم شہباز شریف کا محفوظ، غذائیت سے بھرپور، پائیدار اور خود کفیل غذائی مستقبل کیلئے خوراک اور قدرتی وسائل کی قدر اور تحفظ کے عہد کی تجدید پر زور

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے محفوظ، غذائیت سے بھرپور، پائیدار اور خود کفیل غذائی مستقبل کیلئے خوراک اور قدرتی وسائل کی قدر اور تحفظ کے عہد کی تجدید پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں زراعت کو جامع تحقیق کی کمی، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، آبادی میں اضافے ، خوراک کے بدلتے رجحانات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

اسلام آباد۔6جون (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے محفوظ، غذائیت سے بھرپور، پائیدار اور خود کفیل غذائی مستقبل کیلئے خوراک اور قدرتی وسائل کی قدر اور تحفظ کے عہد کی تجدید پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں زراعت کو جامع تحقیق کی کمی، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، آبادی میں اضافے ، خوراک کے بدلتے رجحانات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

آج اتوار کو منائے جانے والے تخفظ خوراک کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ تخفظ خوراک کے عالمی دن پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر بیماریوں اور آلودگی کے خطرات سے محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کے مشترکہ اور بامقصد ہدف کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ زراعت اور غذائی نظام و ترسیل سے وابستہ ہر فرد بشمول کاشتکار، مویشی پال، ماہی گیر، محققین، تحفظ خوراک کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آج ہم ان کی بے مثال خدمات اور کردار کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یوم تحفظ خوراک اقوام متحدہ کی سرپرستی اورعالمی ادارۂ صحت اور خوراک و زراعت کی تنظیم کی مشترکہ قیادت میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن بذریعہ خوراک ممنکہ بیماریوں اور خطرات کی روک تھام، انکی بروقت نشاندہی اور مؤثر انتظام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کا موضوع ’’بوجھ سے حل تک ۔ہر جگہ محفوظ خوراک‘‘ ہے۔ اس سال خصوصی طور پر عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں، اموات اور صحت عامہ پر ان کے اثرات کے عالمی، علاقائی اور قومی تخمینہ کی جامع رپورٹ بھی شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ کے ہوش ربا انکشافات مطابق دنیا میں سالانہ 866 ملین افراد آلودہ خوراک کے باعث بیمار اور ہر سال تقریباً 15 لاکھ افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ مزید براں، دنیا بھر کی پیداواری صلاحیت میں کمی، طبی اخراجات، معاشی نقصانات، سماجی مسائل، سیاحت وتجارت کی تنزلی اسکے علاوہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوراک سے وابستہ خطرات کے عالمی اعداد و شمار کا ایسا مستند و جامع تجزیہ، ممالک کو عوامی صحت کے تحفظ کے لیے پالیسی سازی، وسائل اور ضروری مداخلتی اقدامات کی ترجیحات کا تعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔غیر محفوظ خوراک سے پیدا کردہ بیماری اور غذائی قلت کا سد باب ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان زرخیز زمین، محنتی کسان اور زرعی صلاحیتوں و وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ تاہم ملکی زراعت کو جامع تحقیق کی کمی، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، آبادی میں اضافہ، خوراک کے بدلتے رجحانات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے حل کےلئےمربوط اور متقاضی حکمتِ عملی پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، مضبوط غذائی تحفظ، زرعی پیداوار بڑھانے اور موسمیاتی اثرات کی کمی کےلئےزرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی پر مبنی جامع اقدامات کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں معیاری بیجوں کی فراہمی، زرعی خام اجزاء کی بہتر دستیابی، زرعی مشینری کا استعمال، ویلیو چینز کی مضبوطی، ذخیرہ کاری اور منڈیوں کے نظام میں بہتری شامل ہے۔ خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے حاصل شدہ علم اور تجربات سے حکومتی سطح پر استفادہ اورصارفین کی سطح پر خوراک کے صفائی، معیاری انتظام اور پکانے کے بنیادی اصولوں سے غذائی خدشات سے موثر انداز میں نبرد آزما ہوا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے وفاقی و صوبائی حکومتوں ، کسانوں ، جامعات، تحقیقی اداروں، نجی شعبے، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ، ترقیاتی شراکت داروں اور تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ محفوظ، مضبوط اور صحت افروز غذائی نظام کی تشکیل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ آئیے آج خوراک اور قدرتی وسائل کی قدر اور تحفظ کا تجدید عہد کریں تاکہ پاکستان کو ایک محفوظ، غذائیت سے بھرپور، پائیدار اور خود کفیل غذائی مستقبل میسر ہو سکے