فرانس نے اسرائیل کی طرف سے فلوٹیلا سے وابستہ انسانی حقوق کارکنوں کی حراست اور ان کے ساتھ بد سلوکی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جنگی جرائم میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی اپنے طور پر انکوائری شروع کر دی
فرانس نے اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی انکوائری کا آغاز کر دیا

مزید خبریں
پیرس۔7جون (اے پی پی):فرانس نے اسرائیل کی طرف سے فلوٹیلا سے وابستہ انسانی حقوق کارکنوں کی حراست اور ان کے ساتھ بد سلوکی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جنگی جرائم میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی اپنے طور پر انکوائری شروع کر دی ۔العربیہ اردو کے مطابق فرانسیسی پراسیکیوٹر آفس نے اسرائیل کے خلاف انکوائری کے آغاز کی تصدیق کر دی ۔ اس انکوائری کے شروع کرنے کی وجہ فلوٹیلا پر 18 مئی کو غزہ جانے کی کوشش کرنے والے 430 انسانی حقوق کارکنوں کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں کھلے پانیوں سے گرفتاری اور بعد ازاں ان کے ساتھ انتہائی بدسلوکی کے واقعات بنے ہیں۔ان 430 زیر حراست لیے گئے فلوٹیلا کارکنوں میں کئی یورپی و دیگر ملکوں کے شہری بھی شامل تھے۔ اسرائیل کی فوج نے غزہ کی طویل جنگ کے دوران لگ بھگ 75 ہزار فلسطینیوں کو بھی شہید کیا تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کسی یورپی ملک نے باضابطہ طور پر خود جنگی جرائم کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کی ہیں۔ فرانس کے پراسیکیوٹر آفس جسے عام طور پر ’’پی اے این ٹی ‘‘ کہا جاتا ہے، نے انسانی حقوق کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی بد سلوکی کا حکومت کے کہنے پر نوٹس لیتے ہوئے انکوائری شروع کی ہے کہ اسرائیل نے کس کس حوالے سے جنگی جرائم روا رکھے ہیں۔








