پاکستان ریلوے (پی آر)نے مین لائن-1 (ایم ایل-1)کے لانڈھی–روہڑی سیکشن کی 1.639 ارب ڈالر لاگت سے اپ گریڈیشن پر کام تیز کر دیا جس کا سنگِ بنیاد اکتوبر 2026 میں رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے
ریلوے کے ایم ایل-1 لانڈھی–روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن پر کام تیز ، سنگِ بنیاد اکتوبر میں رکھنے کا ہدف مقرر

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جون (اے پی پی):پاکستان ریلوے (پی آر)نے مین لائن-1 (ایم ایل-1)کے لانڈھی–روہڑی سیکشن کی 1.639 ارب ڈالر لاگت سے اپ گریڈیشن پر کام تیز کر دیا جس کا سنگِ بنیاد اکتوبر 2026 میں رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق 450 کلومیٹر طویل اس ریلوے راہداری کی وسیع پیمانے پر جدیدکاری کی جائے گی جس میں 32 ریلوے سٹیشنوں اور 551 پلوں اور کلورٹس کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔ منصوبے کے تحت جدید سگنلنگ نظام بھی متعارف کرایا جائے گا جو میں آٹو بلاک سگنلنگ اور سینٹرلائزڈ بلاک انٹرلاکنگ (CBI) شامل ہیں تاکہ آپریشنل کارکردگی اور حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔ماحولیاتی اور سماجی تحفظ (ESS)سے متعلق سرویز اور منصوبوں کی تکمیل اگست 2026 تک متوقع ہے۔ پاکستان ریلوے فریم ورک (PRF) کے کنسلٹنٹ کی جانب سے ڈیزائن ریویو اور ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی جانب سے ماحولیاتی و سماجی (E&S) منصوبوں کی منظوری دسمبر 2026 تک متوقع ہے۔دستاویز کے مطابق ٹھیکیداروں کی خدمات حاصل کرنے، ریٹرو فنانسنگ اور سنگِ بنیاد رکھنے کی سرگرمیاں بھی اکتوبر 2026 میں شیڈول کی گئی ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت ملک کے اہم ترین ریلوے انفراسٹرکچر منصوبوں میں سے ایک کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔اس منصوبے میں لانڈھی اور حیدرآباد کے درمیان لیول کراسنگز کی بہتری اور گریڈ سیپریشن، موسمیاتی خطرات کے جائزے، ماحولیاتی و سماجی تحفظ کے اقدامات اور زمین کے حصول و آبادکاری سے متعلق منصوبے بھی شامل ہیں۔لانڈھی–روہڑی سیکشن کی جدیدکاری سے کراچی اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان مال بردار اور مسافر ٹرینوں کی گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوگا، سفر کا دورانیہ کم ہوگا، لاجسٹکس کی کارکردگی بہتر ہوگی جبکہ پاکستان کے ٹرانسپورٹ رابطوں اور اقتصادی ترقی کے امکانات بھی مستحکم ہوں گے۔








