ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزیوں اور دریائی پانی کے بہاؤ میں ممکنہ رکاوٹوں سے پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ لاکھوں کسانوں، مزدوروں اور دیہی خاندانوں کی زندگی کا بنیادی سہارا ہے
بھارت کی آبی خلاف ورزیاں جنوبی ایشیا کے غذائی مستقبل کیلئے سنگین خطرہ قرار

مزید خبریں
ملتان۔ 07 جون (اے پی پی):ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزیوں اور دریائی پانی کے بہاؤ میں ممکنہ رکاوٹوں سے پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ لاکھوں کسانوں، مزدوروں اور دیہی خاندانوں کی زندگی کا بنیادی سہارا ہے۔زرعی ماہر ساجد محمود (سائنٹیفک آفیسر سی سی آر آئی) کے مطابق پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے اور اگر آبپاشی کا نظام متاثر ہوا تو کپاس، گندم، مکئی، سبزیوں اور چارہ جات سمیت اہم فصلوں کی پیداوار کم ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی سے ٹیکسٹائل صنعت بھی متاثر ہوگی جس سے خوراک کی قلت اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہرِ آم کاشتکار محمد عارف نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور سندھ کے آم کے باغات پانی کی کمی سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ان کے مطابق طویل آبی قلت سے آم کے معیار، سائز اور برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، جس سے ہزاروں کسانوں اور مزدوروں کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔زرعی تجزیہ کار عامر حمزہ نے کہا کہ پانی کی کمی صرف زرعی مسئلہ نہیں بلکہ یہ براہِ راست غذائی تحفظ اور معاشی استحکام سے جڑا معاملہ ہے۔زرعی پیداوار میں کمی سے اشیائے خوردونوش مہنگی ہوں گی اور کم آمدن والے طبقات مزید مشکلات کا شکار ہوں گے۔ماہرین لائیو اسٹاک محمد رمضان اور ڈاکٹر جمشید اختر کے مطابق پانی کی قلت سے چارہ جات کی پیداوار متاثر ہوگی، جانوروں کی خوراک مہنگی ہوگی اور دودھ و گوشت کی پیداوار میں کمی آ سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے اثرات پورے غذائی نظام پر مرتب ہوں گے۔ماہرین ماحولیات نے کہا کہ دریاؤں کے بہاؤ میں کمی سے زمین کی زرخیزی متاثر، سیم و تھور میں اضافہ اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں آبی تعاون کی علامت رہا ہے، اس کی خلاف ورزیاں علاقائی کشیدگی اور غذائی بحران کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ماہرین نے زور دیا کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے بجائے علاقائی تعاون کا ذریعہ بنایا جائے کیونکہ پانی، خوراک اور معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس بحران کا سب سے بڑا بوجھ عام کسانوں اور دیہی آبادیوں کو اٹھانا پڑے گا








