آپریشن بلیو اسٹار کو 42 سال گزر نے کے باوجود سکھ برادری کی اجتماعی یادداشت سے یہ واقعہ محو نہیں ہوا، امرتسر سے لے کر لندن، ٹورنٹو، کیلیفورنیا، میلبورن اور دنیا بھر میں آباد سکھ تارکینِ وطن کی بڑی آبادیوں تک اس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے
آپریشن بلیو اسٹار کی 42ویں برسی، سکھوں کے خلاف بھارتی ریاستی جبر کی تلخ یادآج بھی زندہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جون (اے پی پی):آپریشن بلیو اسٹار کو 42 سال گزر نے کے باوجود سکھ برادری کی اجتماعی یادداشت سے یہ واقعہ محو نہیں ہوا، امرتسر سے لے کر لندن، ٹورنٹو، کیلیفورنیا، میلبورن اور دنیا بھر میں آباد سکھ تارکینِ وطن کی بڑی آبادیوں تک اس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔
اگرچہ بھارتی فوجی کارروائی سے اکال تخت کو شدید نقصان پہنچا، تاہم سکھ سیاسی شعور اور شناخت اس سانحے کے بعد مزید مضبوط ہو کر ابھری۔اس وقت کی بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے حکم پر جون 1984 میں شروع کیا گیا آپریشن بلیو اسٹار محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھا بلکہ سکھوں کے مذہبی اور سیاسی مرکز پر ایک وسیع مسلح آپریشن تھا۔ اس کارروائی کی قیادت میجر جنرل کلدیپ سنگھ برار نے کی، جس میں ٹینکوں، توپ خانے اور فوج کی متعدد بٹالینوں کو استعمال کیا گیا۔جون 1984 میں بھارتی فوج نے اکال تخت میں داخل ہو کر کارروائی کی، جبکہ پنجاب بھر کے 41 دیگر گردواروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی حکام کے مطابق اس کارروائی میں 493 افراد ہلاک ہوئے، تاہم بعض آزاد ذرائع اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی، جن میں خواتین، بچے اور یاتری بھی شامل تھے۔سکھ برادری اس واقعے کو اپنی مذہبی شناخت کی بے حرمتی، اعتماد شکنی اور ریاستی تشدد کے طور پر یاد کرتی ہے۔ اس دوران ہلاک ہونے والے جتھے دار سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ، بھائی امرک سنگھ اور میجر جنرل شبیگ سنگھ سکھ مزاحمت کی علامت بن گئے۔اس فوجی کارروائی کے بعد بھارتی فوج کے بعض سکھ اہلکاروں میں بھی شدید ردعمل سامنے آیا اور مختلف مقامات پر بغاوت اور احتجاجی واقعات رپورٹ ہوئے، جنہیں اس دور کے اہم نتائج میں شمار کیا جاتا ہے۔خالصتان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ علیحدہ ریاست کا مطالبہ ماضی کے سیاسی تنازعات، انصاف کی عدم فراہمی اور ریاستی پالیسیوں کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔ دوسری جانب بھارتی حکومت خالصتان تحریک کو ملک کی سالمیت کے خلاف قرار دیتی ہے اور اس کی مخالفت کرتی ہے۔خالصتان کے حامی تنظیموں کی جانب سے حالیہ برسوں میں مختلف ممالک میں ریفرنڈم نما سرگرمیوں اور مہمات کا انعقاد کیا گیا، جنہیں وہ سکھ برادری کی رائے کا اظہار قرار دیتے ہیں، جبکہ بھارت ان سرگرمیوں کو غیر قانونی اور غیر نمائندہ قرار دیتا ہے۔
سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ، جو دمدمی ٹکسال کے سربراہ تھے، سکھ مذہبی اقدار اور حقوق کے تحفظ کے حوالے سے نمایاں شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے آنند پور صاحب قرارداد کی حمایت کی اور دھرم یدھ مورچہ میں اہم کردار ادا کیا۔میجر جنرل شبیگ سنگھ بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ افسر تھے جنہیں مختلف جنگی خدمات پر اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ بعد ازاں وہ بھنڈرانوالہ کے قریبی ساتھی بن گئے اور آپریشن بلیو اسٹار کے دوران مارے گئے۔آپریشن بلیو اسٹار آج بھی سکھ تاریخ، بھارتی سیاست اور جنوبی ایشیا کے سیاسی مباحثوں میں ایک نہایت حساس اور متنازع باب سمجھا جاتا ہے، جس کے اثرات کئی دہائیوں بعد بھی مختلف شکلوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔








