ملک کو انتشار میں مبتلا کرنے والے عناصر ملک دشمن ہیں،حافظ طاہر محمود اشرفی

مذاکراتی عمل کے بجائے تشدد کا راستہ اختیار کرنا افسوسناک ہے،ملک کو انتشار میں مبتلا کرنے والے عناصر ملک دشمن ہیں۔

 لاہور۔7جون (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماء کونسل و کوآرڈینیٹر قومی پیغام امن کمیٹی حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں اپنی قوت و طاقت کو منوا چکا ہے،جب سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر میں مذاکرات کررہی ہیں ،تو ایسے حالات میں مذاکراتی عمل کے بجائے تشدد کا راستہ اختیار کرنا افسوسناک ہے،ملک کو انتشار میں مبتلا کرنے والے عناصر ملک دشمن ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں پاکستان علما کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ” فضائل سیدنا عثمان غنی سیمینار” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار سے مولانا عاصم مخدوم اور مذہبی رہنما رمضان سیالوی نے بھی خطاب کیا۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ جب بھی مسلمانوں نے تقویت پکڑی ،اس میں بے بنیاد پروپیگنڈہ کرکے افواہ سازی کی گئی جو خارجیوں کا ہتھیار رہا ہے،ہمیں سبق ملتا ہے ،مسلمانوں کا خون و تصادم دشمن کی سازش ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ واضح پیغام ہے کہ ریاست پاکستان اتنی طاقت رکھتی ہے کہ وہ فتنہ الخوارج یا فتنہ الہندوستان کا مقابلہ کرسکتی ہے،کشمیر ہماری شہ رگ ہے جو امتحان میں ڈال رہے ہیں، وہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کا موقف مضبوط ہے تو الیکشن میں جیت کر آئے اور قانون میں تبدیلی کرلیں اور اگر وہ پارلیمنٹ میں نہیں جا سکتے تو پھر کس انتشار کا حصہ ہیں، ایسانہ کریں۔انہوں نے کہا کہ قومی امن پیغام کمیٹی کے تحت تمام اضلاع و صوبوں میں رابطے کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ساتھی شہید ہوگیا ہے، اس کی تدفین نہیں ہو رہی،آزاد کشمیر کے لوگ یہ بات یاد رکھیں، پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ تشدد کا راستہ اختیار کررہے ہیں ، ڈنڈوں سے پولیس و مخالفین کو ماررہے ہیں،آخری حل کیا ہوگا، پھر بھی مذاکرات ہی کرنے ہیں، لوگوں کا متشدد رویہ کشمیر کاز اور امن کے خلاف ہے۔طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ سب لوگوں کو مذاکرات کے ٹیبل پر بیٹھنا چاہیے، بھارت کو معرکہ حق میں شرمناک شکست ہوئی ہے،معرکہ حق پاکستان کی فتح پر دنیا کتابیں لکھ رہی اور فلمیں بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بھارت سے لڑائی کا سبب کشمیر ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 24بار کشمیر کا اپنی تقریر میں ذکر کر چکے ہیں۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ جب بھی مسلمانوں نے تقویت پکڑی اس میں بے بنیاد پروپیگنڈہ کرکے افواہ سازی کی جو خارجیوں کا ہتھیار رہا ہے، ایک طرف فتنہ خوارج بے گناہوں کا قتل کرتا ہے، اسی فتنہ نے عثمان غنی کے دور میں بھی قتل و غارت گری کی۔انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان غنی کے دور میں افواہ سازی پر جعلی خطوط بنائے گئے،دور عثمانی میں ساری سازش کے پیچھے یہود و نصاری تھے،آج بھی ہمیں سب سے بڑا چیلنج افواہ سازی کا درپیش ہے،ہمارا دشمن وہی کھیل کھیل رہا ہے جو ماضی میں کھیلا گیا۔مولانا عاصم مخدوم نے کہا کہ حضرت عثمان غنی وہ اعلی ترین شخصیت ہیں جس کی کوئی مثال نہیں،عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے معاشرے میں امن و محبت قائم کیا۔انہوں نے کہا کہ اپنے مسلک کو چھوڑو نہیں دوسرے کے مسلک کوچھیڑو نہیں،عثمان غنی حیا کا پیکر تھے جنہوں نے اپنے کردار سے معاشرے کو امن کا درس دیا۔مذہبی رہنما رمضان سیالوی نے کہا کہ عثمان غنی کا ذوالنورین کا لقب اور دین اسلام کی وفاداری دنیا کے سامنے ہے،سیرت کی کتب و احادیث کی کتابیں عظمت عثمان غنی سے بھری پڑی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب عثمان غنی پر حملہ ہوا تو حضرت امام حسن و حسین نے اس وقت دروازے پر پہرہ دیا،حضرت عثمان غنی نے امن و امان کے لئے شہادت قبول کی، حضرت عثمان غنی پر بلوائی فیک نیوز اور بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر حملہ کرنے آئے تھے۔رمضان سیالوی نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران امریکہ جنگ میں تاریخی کردار ادا کیا، اس حوالے سے غلط خبروں پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔