پاکستانی والدین کی سپیشل بچی کے ہمراہ فریضہ حج کی ادائیگی ، عزم اور صبر کی داستان

بچے کسی بھی حال میں ہوں، وہ والدین کے جگر کا ٹکڑا اور آنکھوں کا تارا ہوتے ہیں۔

مدینہ منورہ ۔8جون (اے پی پی):بچے کسی بھی حال میں ہوں، وہ والدین کے جگر کا ٹکڑا اور آنکھوں کا تارا ہوتے ہیں۔ ان معصوم اور فرشتہ صفت بچوں کو کسی بھی لمحے اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا، اور جب بات ہو سفرِ حج کی، تو ان کے ہمراہ مناسک کی ادائیگی جہاں ایک کڑا امتحان ہے، وہیں دنیا بھر کے انسانوں کے لیے ایک گہرا سبق آموز پیغام بھی ہے۔پاکستان کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی نے اس سال اپنے دل کے ٹکڑے، ایک خاص (سپیشل) بچی "فاطمہ” کے ہمراہ فریضہ حج ادا کیا۔ تمام مناسکِ حج انتہائی خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کے بعد، یہ خاندان اب مدینہ منورہ میں موجود ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معصوم فاطمہ نے اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں انتہائی معصومیت سے کہاکہ میرا نام فاطمہ ہے۔ میں اللہ کے گھر آئی ہوں اور اللہ کا گھر بہت اچھا ہے۔

اس موقع پر موجود فاطمہ کے والد کاشف احمد صدیقی اور والدہ عظمیٰ نے بتایا کہ انہوں نے سرکاری حج سکیم (لانگ پیکیج)کے تحت حج کی سعادت حاصل کی ہے۔ انہوں نے رہائش، ٹرانسپورٹ اور خاص طور پر پاکستانی ذائقوں سے بھرپور کھانوں کے حوالے سے حکومتی انتظامات کو بے حد سراہا اور تمام خدامِ حج کا شکریہ ادا کیا۔فاطمہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے حج ایک جہاد کی مانند ہے اور اس میں پیدل چلنے کی مشقت تو یقیناً آتی ہے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہاکہ میری بچی سپیشل ہے، میں اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ میں قدم قدم پر اس کے لیے آسانیاں مانگتی رہی۔ جمرات پر رمی کے دوران جب پیدل چلنا پڑا تو سخت تھکن تھی، لیکن وہاں کیے جانے والے ٹھنڈے سپرے نے ہماری تمام تھکن دور کر دی۔ میری بچی نے بھی بہت تعاون کیا اور ماشاءاللہ سب کچھ بہت اچھا رہا۔

فاطمہ کے والد کاشف احمد صدیقی نے سوشل میڈیا پر چلنے والی بعض منفی مہمات کے برعکس اپنے تجربے کو مثبت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حج کے دوران سکھائی جانے والی صبر اور نظم و ضبط کی تربیت کو جب ہم خود نظر انداز کرتے ہیں تو مشکلات پیدا ہوتی ہیں، اگر شیڈول پر عمل کیا جائے تو سب کچھ آسان ہو جاتا ہے۔ تاہم، انہوں نے مکہ اور مزدلفہ کے درمیان ٹرین کے سفر میں وقت کے انتظام کو مزید بہتر کرنے کی تجویز دی تاکہ عمر رسیدہ افراد، خواتین اور فاطمہ جیسے خاص بچوں کو مزید آسانی مل سکے۔یہ سفر اس بات کی روشن مثال ہے کہ معذوری یا کوئی بھی مشکل، خدا کے گھر کی حاضری اور والدین کے عزم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ مدینہ منورہ کی پرسکون فضاؤں میں موجود یہ فیملی اب دل میں اس یقین کے ساتھ واپس لوٹ رہی ہے کہ فاطمہ جیسی فرشتہ صفت بچی ان کے لیے دارین کی سعادتوں اور گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنی ہے۔