سپریم کورٹ کا خواتین اساتذہ کو تعیناتی کی تاریخ سے پنشن مراعات دینے کا حکم

سپریم کورٹ نے خواتین اساتذہ کو تعیناتی کی تاریخ سے پنشن اور دیگر سروس مراعات دینے کا حکم دیتے ہوئے سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے خواتین اساتذہ کو تعیناتی کی تاریخ سے پنشن اور دیگر سروس مراعات دینے کا حکم دیتے ہوئے سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، مقدمے کی سماعت پیر کو ہوئی ۔یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے خواتین اساتذہ کی اپیل پر سنایا۔عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار خواتین اساتذہ کو 1998 میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا تھا جبکہ محکمہ تعلیم نے انہیں 2009 میں مستقل (ریگولرائزڈ) کیا۔اساتذہ کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں پنشن اور دیگر سروس مراعات تعیناتی کی اصل تاریخ سے دی جائیں، نہ کہ ریگولرائزیشن کی تاریخ سے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ خواتین اساتذہ کو تعیناتی کی تاریخ سے سروس فوائد اور پنشن کا حق حاصل ہے، اس لیے سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔فیصلے کے بعد خاتون ٹیچر شاہدہ مشتاق نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے انصاف کی فتح ہے اور عدالت نے ان کا حق تسلیم کیا ہے۔

مزید خبریں