ایس ای سی پی نے غیر مکی اسپانسرز کی کمپنیوں کے لیے لائسنسنگ کا عمل مزید آسان کر دیا

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے غیر ملکی سپانسرز اور ڈائریکٹرز رکھنے والی کمپنیوں کے لیے نان بینکنگ فنانشل سیکٹر ، انشورنس ، کیپیٹل مارکیٹس اور دیگر شعبوں میں خدمات کی فراہمی کے لائسنس کے حصول کا عمل مزید آسان بنا دیا ہے

اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے غیر ملکی سپانسرز اور ڈائریکٹرز رکھنے والی کمپنیوں کے لیے نان بینکنگ فنانشل سیکٹر ، انشورنس ، کیپیٹل مارکیٹس اور دیگر شعبوں میں خدمات کی فراہمی کے لائسنس کے حصول کا عمل مزید آسان بنا دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کمپنیوں کے مجوزہ غیر ملکی ڈائریکٹرز کی پیشگی سکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے تاہم غیر ملکی ڈائریکٹرز کی تقرری متعلقہ اداروں سے سکیورٹی کلیئرنس سے مشروط رہے گی۔ درخواست گزاروں کو یہ تحریری یقین دہانی بھی کرانا ہوگی کہ اگر کسی مجوزہ ڈائریکٹر کی سکیورٹی کلیئرنس مسترد ہو جاتی ہے تو اسے مقررہ مدت کے اندر تبدیل کر دیا جائے گا۔اس اقدام کا مقصد لائسنس کے اجراء میں تاخیر کو کم کرنا ہے اور پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹس، نان بینکنگ فنانس، انشورنس اور دیگر ریگولیٹڈ مالیاتی خدمات کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

اس سے قبل غیر ملکی ڈائریکٹرز رکھنے والی کمپنیوں کے لیے ایس ای سی پی کو لائسنسنگ درخواست جمع کرانے سے پہلے متعلقہ اداروں سے سکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنا لازمی تھا۔ یہ عمل اکثر کافی وقت لیتا تھا اور سرمایہ کار اسے پاکستان میں ریگولیٹڈ مالیاتی کاروبار کے قیام میں ایک رکاوٹ تصور کرتے تھے۔نئے طریقہ کار کے تحت ایس ای سی پی اب غیر ملکی سپانسرز یا ڈائریکٹرز رکھنے والی کمپنیوں کی لائسنسنگ درخواستوں پر خود اقراری حلف نامے کی بنیاد پر کارروائی شروع کر سکے گا جبکہ مجوزہ ڈائریکٹرز کی سکیورٹی کلیئرنس کا عمل متعلقہ اداروں میں علیحدہ طور پر جاری رہے گا۔ سکیورٹی کلیئرنس موصول ہونے پر متعلقہ ڈائریکٹر کی تقرری برقرار رہے گی جبکہ کلیئرنس نہ ملنے کی صورت میں کمپنی کو اس کی جگہ نیا ڈائریکٹر نامزد کرنا ہوگا۔ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ نظرثانی شدہ فریم ورک سرمایہ کاری کے فروغ اور موثر ریگولیٹری نگرانی کے درمیان ایک مناسب توازن قائم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے حقیقی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کے ریگولیٹڈ مالیاتی شعبے میں داخلہ مزید آسان ہوگا جبکہ قوانین اور سکیورٹی تقاضوں پر مکمل عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے گا۔

 

مزید خبریں