وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کی بندرگاہوں اور اسپورٹس سیکٹر کے درمیان تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا
وفاقی وزیر محمد جنید انوار چوہدری سے شاہد آفریدی کی ملاقات، کوسٹل اسپورٹس اینڈ اوشین اویئرنس ڈرائیو پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کی بندرگاہوں اور اسپورٹس سیکٹر کے درمیان تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وفاقی وزیر نے کھیلوں کے فروغ کے لیے بندرگاہی اداروں کے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور ساحلی انفراسٹرکچر ملک میں کھیلوں کے فروغ اور اس کی بقا میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ساحلی علاقوں میں کھیلوں کی ترقی، نوجوانوں کی شمولیت اور کمیونٹی انگیجمنٹ کے لیے خصوصی پلیٹ فارمز کے قیام کی تجاویز زیر غور آئیں۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہیں اور بحری خطے اب محض تجارت اور لاجسٹکس تک محدود نہیں رہے بلکہ قومی ترقی کے اہم مراکز بنتے جا رہے ہیں جہاں کھیل، تعلیم اور ماحولیاتی آگاہی کو یکجا کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بلیو اکانومی کے وژن کے تحت اسپورٹس ڈویلپمنٹ کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے کوسٹل اسپورٹس اکیڈمیز، کرکٹ ٹریننگ سینٹرز اور نوجوانوں کے لیے خصوصی پروگرامز قائم کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ پاکستان میں اتحاد کی سب سے بڑی علامت ہے، اور اگر اسے بحری تشخص کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ نوجوانوں میں سمندروں کے تحفظ، ماحولیاتی تبدیلی اور سمندری وسائل کی اہمیت سے متعلق آگاہی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کو سمندری آگاہی مہمات کے ساتھ مربوط کر کے نہ صرف ماحولیاتی مسائل جیسے سمندری آلودگی اور ماہی گیری کے وسائل میں کمی پر توجہ دی جا سکتی ہے بلکہ ساحلی علاقوں کے نوجوانوں کے لیے بہتر مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ شاہد آفریدی نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کھیل نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں اور انہیں ماحولیاتی آگاہی کے لیے بھی مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ساحلی پٹی میں اسپورٹس ٹورازم اور گراس روٹ سطح پر کرکٹ کے فروغ کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ملاقات میں کراچی، گوادر اور دیگر بندرگاہی شہروں میں کوسٹل اسپورٹس اینڈ اوشین اویئرنس ڈرائیوز شروع کرنے پر بھی غور کیا گیا، جن میں کرکٹ ٹورنامنٹس کے ساتھ ساتھ مینگروز کے تحفظ، سمندری حیاتیاتی تنوع اور وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق آگاہی سیشنز شامل ہوں گے۔ اس مجوزہ فریم ورک کے تحت بندرگاہی ادارے بنیادی انفراسٹرکچر معاونت فراہم کریں گے جبکہ اسپورٹس تنظیمیں اور نجی شعبہ تربیتی اور آگاہی پروگرامز تشکیل دیں گے۔ ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بحری اور اسپورٹس سیکٹر کے درمیان تعاون کے لیے ایک جامع روڈمیپ تیار کیا جائے گا جس کا مقصد پاکستان کی بلیو اکانومی کے وژن کو تقویت دینا اور کھیلوں کے ذریعے سماجی ہم آہنگی اور ماحولیاتی شعور کو فروغ دینا ہے۔








