ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عمر جاوید کی زیر صدارت پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس میں منگل کو اہم اجلاس منعقد ہوا ، جس میں مون سون بارشوں اربن فلڈنگ اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
ڈی جی پی ڈی ایم اے کی زیر صدارت اجلاس ، مون سون بارشوں اربن فلڈنگ اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریوں کاجائزہ لیا

مزید خبریں
لاہور۔9جون (اے پی پی):ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عمر جاوید کی زیر صدارت پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس میں منگل کو اہم اجلاس منعقد ہوا ، جس میں مون سون بارشوں اربن فلڈنگ اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ترجمان کے مطابق اجلاس میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ محکموں کو مون سون پریپیئرڈنس پلان 2026 پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور ہنگامی منصوبہ بندی، وسائل کی دستیابی اور ریسپانس میکنزم کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ محکموں کو دستیاب مشینری، آلات، افرادی قوت اور دیگر وسائل سے متعلق رپورٹ بھی اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ مون سون کے دوران درپیش چیلنجز اور فوری توجہ کے متقاضی امور کا جائزہ بھی لیا گیا۔
اس موقع پر ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل تیاریاں یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ، اسی طرح ڈپٹی کمشنرز کو سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے جامع انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ڈی جی عمر جاوید نے کہا کہ کمزور پشتوں، حفاظتی بندوں اور ممکنہ شگاف والے مقامات کے معائنے کی پیش رفت رپورٹ طلب کرلی گئی ہے اور متعلقہ انتظامیہ کو کہا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ سے بچاو کیلئے پیشگی انتظامات مکمل کر یں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ اجلاس میں نالوں کی ڈی سلٹنگ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ، متاثرہ آبادی اور مویشیوں کے انخلا کیلئے روٹس، محفوظ مقامات اور ٹرانسپورٹ پلان پر بریفنگ دی گئی،ضلعی ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کو 24/7 فعال رکھنے کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ ڈی جی عمر جاوید نے کہا کہ ریلیف کیمپس میں خوراک، پینے کے صاف پانی، صفائی، بجلی اور سکیورٹی انتظامات پر رپورٹ پیش۔کی گئی ،جس میں امدادی سامان، مشینری، افرادی قوت اور ایندھن کے ذخائر کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا اور عوامی آگاہی مہم اور سیلابی خطرات سے متعلق احتیاطی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔








