سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ غفلت یا تکنیکی خرابی کے باعث پیش آنے والا فضائی حادثہ، جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہو، قتلِ عمد کے بجائے قتل بالسبب کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ایسے واقعات میں موت واقع کرنے کی نیت یا علم (Mens Rea) موجود نہیں ہوتا
فضائی حادثہ قتلِ عمد نہیں، قتل بالسبب کے زمرے میں آتا ہے ، سپریم کورٹ
اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ غفلت یا تکنیکی خرابی کے باعث پیش آنے والا فضائی حادثہ، جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہو، قتلِ عمد کے بجائے قتل بالسبب کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ایسے واقعات میں موت واقع کرنے کی نیت یا علم (Mens Rea) موجود نہیں ہوتا۔
جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بھوجا ایئر کی پرواز بی 4-213 کے 2012ء کے فضائی حادثے سے متعلق مقدمے میں اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں قرار دیا کہ 20 اپریل 2012ء کو بھوجا ایئر کی پرواز کے حادثے کے بعد تھانہ کورال اسلام آباد میں درج مقدمات میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی تھیں۔
تاہم ٹرائل کورٹ نے چالان موصول ہونے کے بعد یہ قانونی سوال پہلے طے کیا کہ آیا الزامات قتلِ عمد کے زمرے میں آتے ہیں یا قتل بالسبب کے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ دفعہ 302 کے تحت قتلِ عمد کے لیے ملزم کی جانب سے موت واقع کرنے کی نیت یا ایسا علم ضروری ہے کہ اس کے فعل سے لازماً موت واقع ہوگی۔ اس کے برعکس دفعہ 321 اور 322 کے تحت قتل بالسبب میں موت تو واقع ہوتی ہے لیکن موت کا ارادہ موجود نہیں ہوتا اور واقعہ غفلت، لاپرواہی یا کسی غیر ارادی فعل کا نتیجہ ہوتا ہےعدالت نے آبزرویشن دی کہ فضائی حادثات عموماً تکنیکی خرابی، آپریشنل غفلت، انسانی غلطی یا نگرانی کے نظام میں کوتاہی کے باعث پیش آتے ہیں،
اس لیے ایسے واقعات میں جان بوجھ کر قتل کرنے کا عنصر موجود نہیں ہوتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ سیشن جج نے دستیاب مواد کا جائزہ لینے کے بعد درست طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ مقدمہ بادی النظر میں قتلِ عمد کے بجائے قتل بالسبب کا بنتا ہے، لہٰذا کیس مجاز مجسٹریٹ کو بھجوانا قانون کے مطابق تھا۔سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ ہائی کورٹ کے اختیاراتِ نظرثانی محدود ہوتے ہیں اور وہ صرف واضح قانونی غلطی، اختیارات سے تجاوز یا سنگین بے ضابطگی کی صورت میں مداخلت کر سکتی ہے۔
چونکہ ٹرائل کورٹ کے حکم میں ایسی کوئی قانونی خامی موجود نہیں تھی، اس لیے ہائی کورٹ کی مداخلت بلاجواز تھی۔عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور ٹرائل کورٹ کا حکم بحال کر دیا۔ فیصلے کے مطابق غفلت یا تکنیکی خرابی کے باعث پیش آنے والا فضائی حادثہ دفعہ 302 کے تحت قتلِ عمد نہیں بلکہ دفعہ 322 کے تحت قتل بالسبب شمار ہوگا۔









