آبادی میں تیزی سے اضافہ سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے، وفاقی وزیر برائے قومی صحت کا قومی پروگرام برائے استحکام آبادی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 56 لاکھ سے زائد بچے پیدا ہوتے ہیں اور آبادی میں تیزی سے اضافہ سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے

اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 56 لاکھ سے زائد بچے پیدا ہوتے ہیں اور آبادی میں تیزی سے اضافہ سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ قومی پروگرام برائے استحکام آبادی (2026-35) کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی ملکی وسائل، روزگار، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات پر شدید دبائو ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آبادی میں اضافے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے کے باعث نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں سمیت مختلف شعبوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی یونیورسل ہیلتھ کوریج کی بنیاد ہے اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے آبادی میں توازن ناگزیر ہے۔اجلاس کے دوران حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آبادی میں موجودہ رفتار سے اضافہ جاری رہا تو پاکستان کی آبادی 2050 تک 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے جس سے ملکی وسائل پر شدید دبائو خدشہ ہے۔اس موقع پر وفاقی وزیر صحت نے زور دیا کہ آبادی کے استحکام کے قومی ہدف کے حصول کے لیے سیاسی عزم، بین الصوبائی ہم آہنگی، موثر پالیسی سازی اور مطلوبہ وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔تقریب میں شریک ترقیاتی شراکت داروں نے پاکستان کے آبادی استحکام ایجنڈے کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور قومی پروگرام برائے استحکام آبادی 2026-35 کے اہداف کے حصول میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

مزید خبریں