وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نےکہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک 2030ء تک اقتصادی تعاون کے جامع پروگرام پر دستخط کے لیے متفق ہو چکے ہیں
پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں، وفاقی وزیر توانائی کا ویبینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نےکہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک 2030ء تک اقتصادی تعاون کے جامع پروگرام پر دستخط کے لیے متفق ہو چکے ہیں جو دوطرفہ اقتصادی روابط کو نئی جہت دینے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ منگل کو ’’بدلتے ہوئے عالمی نظام کے تناظر میں پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ویبینار-1 سے بطور کلیدی مقرر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دودہائیوں کے دوران پاکستان اور روس کے تعلقات نے نہایت مثبت، تعمیری اور عملی بنیادوں پر نمایاں پیش رفت کی ہے۔عالمی سیاست میں رونما ہونے والی ساختی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سوویت دور سےوابستہ باقی ماندہ بداعتمادی بتدریج ختم ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات ’’غیر دوستانہ ملک‘‘ کے تصور سے آگے بڑھ کر ’’قابل اعتماد دوست‘‘ کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ تجارت، توانائی، دفاع اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ میں دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کا کلیدی کردار رہا ہےجس کا مظہر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان حالیہ برسوں میں ہونے والی چار ملاقاتیں ہیں۔روس-پاکستان بین الحکومتی کمیشن (آئی جی سی) کے پاکستانی شریک چیئرمین کی حیثیت سے وفاقی وزیر نےروسی فیڈریشن کے وزیر توانائی اور اپنے ہم منصب سرگئی تسیویلیف کے ساتھ مسلسل روابط کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی سی دونوں ممالک کے کثیرالجہتی اور ہمہ گیر تعلقات کی بنیادی اساس کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعاون مختلف ادارہ جاتی فریم ورک کے ذریعے مزید مستحکم ہوا ہے جن میں سلامتی سے متعلق مشاورت،تزویراتی استحکام، انسداد دہشت گردی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے باقاعدہ نظام شامل ہیں۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر بھی باہمی ہم آہنگی کے ساتھ ایک جامع اور کثیر القطبی عالمی نظام کے فروغ کے لیے مشترکہ موقف اختیار کرتے ہیں۔وفاقی وزیر نے علاقائی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی شمال-جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور (آئی این ایس ٹی سی) میں شمولیت کا خواہاں ہے۔ انہوں نے روسی نائب وزیراعظم الیکسے اوورچوک کے اس بیان کا خیرمقدم کیا جس میں انہوں نے اس کوریڈور کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے منسلک کرنے کی تجویز پیش کی۔ وفاقی وزیر کے مطابق یہ اقدام چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں ایک اہم رابطے کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتا ہے۔انہوں نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ روسی قیادت نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں کو سراہا ہے جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم اور ذمہ دار شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے اور ادائیگیوں کے نظام سمیت بعض ساختی رکاوٹوں کے حل کے لیے دونوں ممالک فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں دونوں فریق روسی فیڈریشن اور پاکستان کے درمیان 2030ء تک کے لیے اقتصادی تعاون کے پروگرام پر دستخط کے لیے متفق ہو چکے ہیں جو اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں بشکیک میں روس-پاکستان ری ایڈمیشن معاہدے پر دستخط بھی ایک اہم پیش رفت ہے جس کے نتیجے میں ویزا سہولتوں میں بہتری آئے گی، کاروباری روابط کو فروغ ملے گا اور عوامی سطح پر تبادلوں میں مزید اضافہ ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ روس کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے ادارہ جاتی روابط کا اظہار گزشتہ ماہ کازان فورم 2026 میں پاکستان کے بڑے وفد کی شرکت سے بھی ہوا جبکہ پاکستان سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم اور ماسکو انرجی ویک سمیت دیگر اہم بین الاقوامی تقریبات میں بھی باقاعدگی سے شرکت کرتا ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات صرف دوطرفہ تعاون تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر یوریشیائی اقتصادی انضمام، علاقائی روابط اوراستحکام کے فروغ میں بھی بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔








