دوسری عالمی جنگ کے بعد 2025 میں دنیا نےریاستی تنازعات کی سب سے زیادہ تعداد دیکھی جبکہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد 2025 میں عالمی تنازعات بلند ترین سطح پر رہے،رپورٹ

مزید خبریں
اوسلو۔10جون (اے پی پی):دوسری عالمی جنگ کے بعد 2025 میں دنیا نےریاستی تنازعات کی سب سے زیادہ تعداد دیکھی جبکہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اردو نیوز کے مطابق ناروے کے تحقیقاتی ادارے پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اوسلو (پی آر آئی او ) نے اپنی سالانہ رپورٹ’’کانفلکٹ ٹرینڈز‘‘ میں بتایا کہ گزشتہ سال دنیا بھر میں ایک ریاست کو شامل کرنے والے 65 تنازعات ریکارڈ کیے گئے، جو 1946 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ریاستوں کے درمیان براہِ راست تنازعات بھی گزشتہ 80 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے اور ان کی تعداد دوگنی ہو کر آٹھ ہوگئی۔
تحقیق کار سیری آس روسٹاد نے کہا کہ بدقسمتی سے اس رپورٹ میں مثبت پہلو بہت کم ہیں اور رواں سال کے اعداد و شمار واقعی حیران کن ہیں۔ گزشتہ سال سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تیسرا سب سے خونریز سال ثابت ہوا۔ لڑائیوں اور سیاسی تشدد کے نتیجے میں تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے تقریباً 76 ہزار 500 افراد ایسے حملوں میں مارے گئے جن میں شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا جبکہ 2024 میں یہ تعداد 14 ہزار 200 تھی۔ رپورٹ کے مطابق دارفور کے شہر الفاشر میں محاصرے اور قتل عام کے نتیجے میں تقریباً 60 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد صرف 1994 اور 2021 میں اس سے زیادہ خونریزی دیکھی گئی تھی، جن کی وجہ بالترتیب روانڈا جینوسائیڈ اور ایتھوپیا کے تیگرائے ریجن کی جنگ تھی۔
رپورٹ کے مطابق افریقہ ریاستی تنازعات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ رہا، جہاں 29 تنازعات ریکارڈ کیے گئے۔ اس کے بعد ایشیا، مڈل ایسٹ، امریکا اور یورپ کا نمبر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ یا چھ سال میں کئی بڑے تنازعات ایک ہی وقت میں جاری رہے ہیں اور ایک تنازع ختم ہونے سے پہلے دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ دنیا کو سکون کا کوئی وقفہ نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مسلسل زیادہ شدت کے تنازعات کا یہ رجحان ماضی سے مختلف ہے۔ یہ تحقیق اپسالا کانفلکٹ ڈیٹا پروگرام (یو سی ڈی پی) کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جو اپسالا یونیورسٹی سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس وقت واضح طور پر دنیا کے سب سے زیادہ جارحانہ ممالک میں سے ایک ہے۔ انہوں نے غزہ، شام، لبنان، ایران اور یمن میں اسرائیلی کارروائیوں کا حوالہ دیا۔








