کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی، حالات خراب کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی، حالات خراب کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ
اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اﷲ نے کہا ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی، حالات خراب کرنے والوں سے قانون کے مطابق آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ بدھ کو ایوان بالا کے اجلاس میں رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے، انہوں نے اپنی گفتگو میں حقائق کے برعکس بات کی ہے، گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے 23، پاکستان مسلم لیگ 22 اور پی ٹی آئی نے 14 حلقوں میں امیدوار کھڑے کئے، تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی قوانین کے تحت انتخابات میں حصہ لیا، صبح 8 سے شام 5 بجے تک ووٹرز کی لمبی لائن تھی، لوگوں نے کثیر تعداد میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا، کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا، کسی نے کسی کی کوئی شکایت نہیں کی، پانچ حلقوں میں 15 تاریخ کو ری پولنگ ہو گی، پوری دنیا اس کو شفاف انتخابات مانتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دو مطالبات کئے، مظفرآباد دھرنا دیا، پرتشدد مظاہرے کئے، 23 ارب روپے کا پیکیج دیا گیا، 10 ارب روپے بجلی کے منصوبوں کیلئے دیئے گئے، بجلی تین روپے فی یونٹ دی جا رہی ہے، گندم پر سبسڈی دی جا رہی ہے، 2 ہزار روپے فی من گندم دی جا رہی ہے، پھر وہ 38 مطالبات لے کر آئے، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے مشاورت سے کمیٹی تشکیل دی، کمیٹی نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ دو دن مذاکرات کئے، 37 مطالبات پر معاہدہ ہو گیا تھا، ان کا ایک مطالبہ تھا کہ مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کر دی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بھی ان کے تین مطالبات تسلیم کئے لیکن انہیں بتایا کہ یہ مہاجرین کی نشستیں ہیں، اس معاملہ پر 6 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا معاہدہ کیا گیا، انہوں نے جان بوجھ کر 9 جون کا الٹی میٹم دیا، انہوں نے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، عید کے بعد بھی ان سے حکومتی کمیٹی نے مذاکرات کئے اور انہیں ان کے مطالبات پر عملدرآمد کے حوالے سے آگاہ کیا، ہم تشدد کی بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتے تھے لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہے، اس بارے میں ایگزیکٹو آرڈر سے فیصلہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی فیصلہ کر سکتی ہے، صدارتی ریفرنس کے ذریعے یہ معاملہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ بھیجا گیا اور اس پر سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ کیا، انہوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی، حالات خراب کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز ملک کے تحفظ کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہیں، آزاد کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، پاکستانیوں نے کشمیریوں کیلئے اپنی جانیں قربان کیں، کشمیریوں نے جدوجہد آزادی کیلئے لاکھوں قربانیاں دی ہیں، پاکستان ہر قیمت پر کشمیر کا تحفظ کرے گا، حالات خراب کرنے والوں سے قانون کے مطابق آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔









