اقتصادی سروے 2025-26 کل (جمعرات کو) پیش کیا جائے گا

پاکستان کا اقتصادی سروے برائے مالی سال 2025-26 جو وفاقی بجٹ سے قبل ملکی معیشت کی کارکردگی کا جامع جائزہ پیش کرنے والی اہم دستاویز ہے، جمعرات (11 جون) کی دوپہر جاری کیا جائے گا۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اقتصادی سروے 2025-26 کا باضابطہ اجراء کریں گے

اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):پاکستان کا اقتصادی سروے برائے مالی سال 2025-26 جو وفاقی بجٹ سے قبل ملکی معیشت کی کارکردگی کا جامع جائزہ پیش کرنے والی اہم دستاویز ہے، جمعرات (11 جون) کی دوپہر جاری کیا جائے گا۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اقتصادی سروے 2025-26 کا باضابطہ اجراء کریں گے۔اقتصادی سروے وفاقی بجٹ سے قبل ایک اہم دستاویز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس میں گزرنے والے مالی سال کے دوران ملک کی سماجی و اقتصادی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ شامل ہوتا ہے۔سروے میں زراعت، صنعت، مینوفیکچرنگ، خدمات، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن، سرمایہ کاری و کیپٹل مارکیٹس، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور مواصلات سمیت مختلف شعبوں کی کارکردگی، کامیابیوں اور درپیش چیلنجز کا احاطہ کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ سماجی تحفظ کے پروگراموں، ماحولیاتی پائیداری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق پیش رفت بھی سروے کا حصہ ہوگی۔دستاویز میں مہنگائی، تجارت، ادائیگیوں کے توازن، سرکاری قرضوں، آبادی میں اضافے، روزگار کی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سمیت اہم معاشی اشاریوں کے تازہ ترین اعداد و شمار بھی پیش کیے جائیں گے۔اقتصادی سروے کا مقصد قومی معیشت کی مجموعی تصویر پیش کرتے ہوئے عوامی مباحثے اور پالیسی سازی کے عمل میں معاونت فراہم کرنا ہے تاکہ نئے مالی سال کے لیے موثر منصوبہ بندی کی جا سکے۔توقع ہے کہ یہ سروے آئندہ وفاقی بجٹ کی بنیاد فراہم کرے گا اور مالیاتی استحکام، معاشی استحکام اور جامع ترقی کے حکومتی اہداف کے حصول میں رہنمائی کا کردار ادا کرے گا۔