وفاقی حکومت نے اقتصادی سروے 26-2025 جاری کردیا جس کے مطابق ملکی معیشت نے رواں مالی سال کے دوران نمایاں بحالی اور استحکام کا مظاہرہ کیا، حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ معیشت کا مجموعی حجم 11 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، فی کس آمدنی 9 فیصد بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی، زراعت نے 2.89 فیصد، …
ملکی معیشت نے رواں مالی سال کے دوران نمایاں بحالی اور استحکام کا مظاہرہ کیا،اقتصادی سروے

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی حکومت نے اقتصادی سروے 26-2025 جاری کردیا جس کے مطابق ملکی معیشت نے رواں مالی سال کے دوران نمایاں بحالی اور استحکام کا مظاہرہ کیا، حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ معیشت کا مجموعی حجم 11 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، فی کس آمدنی 9 فیصد بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی، زراعت نے 2.89 فیصد، صنعت نے 3.51 فیصد اور خدمات کے شعبے نے 4.09 فیصد کی شرح نمو حاصل کی، بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں 6.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے اور اس کے بیشتر ذیلی شعبوں نے مثبت کارکردگی دکھائی، مالیاتی اور بیرونی شعبوں میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی، مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے محض 0.7 فیصد تک محدود رہا جبکہ پرائمری سرپلس 3.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا، زرمبادلہ کے ذخائر 49 فیصد اضافے کے ساتھ 17.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ترسیلات زر 33.9 ارب ڈالر رہیں اور مالی سال کے اختتام تک ان کے 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے سے 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 20.4 فیصد اضافہ ہوا اور پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد 45 فیصد بڑھ گئی۔ سروے کے مطابق مہنگائی میں نمایاں کمی، نجی شعبے اور زراعت کے لئے قرضوں میں اضافہ، ڈیجیٹلائزیشن اور جاری ساختی اصلاحات نے معیشت کے استحکام اور کاروباری اعتماد کو مزید مضبوط بنایا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کو یہاں پر ہجوم پریس کانفرنس میں اقتصادی جائزہ 26-2025 پیش کیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال ، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اقتصادی سروے 26-2025 کے مطابق ملکی معیشت کے حجم اور شرح نمو سمیت تمام اہم اقتصادی اعشاریوں میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی جس سے معاشی استحکام اور بحالی کے عمل کو واضح تقویت ملی ۔ اقتصادی سروے کے اہم ترین 25 اعشاریوں پر مبنی دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کے دوران حقیقی جی ڈی پی گروتھ 3.70 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کے دوران 3.2 فیصدرہی، مالی سال 2024 میں 2.6 فیصد جبکہ مالی سال 2023 میں منفی 0.2 فیصد تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت کے تمام بڑے شعبوں میں بحالی کا عمل تیز ہوا ۔
دستاویز کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں معیشت کا سب سے بڑا حجم ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ برس کے 408 ارب ڈالر کے مقابلے میں 11 فیصد اضافے سے 452.1 ارب ڈالر (126.9 ٹریلین روپے) تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی کس آمدنی بھی 9 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 1901 ڈالر تک پہنچ گئی جو معاشی ترقی کے ساتھ آمدنی میں بحالی کی عکاس ہے۔ معیشت کے پیداواری شعبوں کی جاری تفصیلات کے مطابق سیلاب اور دیگر نقصانات کے باوجود زراعت کے شعبے نے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2.89 فیصد کی شرح نمو حاصل کی جبکہ صنعتی شعبے میں بھی نمایاں بحالی دیکھی گئی اور اس کی شرح نمو 3.51 فیصد رہی جو مالی سال 2023 میں منفی 3.9 فیصد تک گر گئی تھی۔ بڑے صنعتی اداروں کی شرح نمو (ایل ایس ایم) میں 6.1 فیصد جبکہ جولائی تا مارچ 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ 4 برسوں میں سب سے زیادہ ہے ، ایل ایس ایم کے 22 میں سے 16 ذیلی شعبوں کی کارکردگی مثبت رہی جبکہ خدمات (سروسز) کا شعبہ بھی 4.09 فیصد کی شرح نمو کے ساتھ معاشی ترقی کا اہم محور رہا ہے۔ مالیاتی ڈسپلن اور بیرونی کھاتوں کے حوالے سے اقتصادی جائزے میں بتایا گیا کہ جولائی تا مارچ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا محض 0.7 فیصد رہا جو گزشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں بہترین کارکردگی ہے جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 3.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا جس سے مضبوط معاشی بنیادوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ قرضوں کا بوجھ مسلسل کم ہو رہا ہے اور ڈیٹ ٹو جی ڈی پی کا تناسب کم ہو کر 68.5 فیصد پر آ گیا جو مالی سال 2023 میں 75.2 فیصد اور مالی سال 2024 میں 70.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق جولائی تا مئی صارفین کےلئے اوسط مہنگائی (سی پی آئی)6.7 فیصد رہی جبکہ جولائی تا فروری یہ شرح 5.5 فیصد تھی ،تاہم مارچ سے مئی کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل ایران تنازعے کے باعث توانائی کی قیمتوں پر مرتب ہونے والے اثرات کی وجہ سے اس میں کچھ اضافہ ہوا تاہم مالی سال 2023 کی سی پی آئی 29.2 اور مالی سال 2024 کی 23.4 فیصد کے مقابلے میں قیمتوں میں استحکام برقرار رہا ہے۔ جولائی تا اپریل کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نمایاں کمی کے ساتھ محض 252 ملین ڈالر تک کم ہو گیا جو مالی سال 2022 میں 17.4 ارب ڈالر تھا جبکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 29 مئی 2026 تک 49 فیصد اضافے کے ساتھ 17.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں
جس سے بیرونی معاشی جھٹکوں کے خلاف پاکستان کی اقتصادی اپوزیشن مستحکم ہوئی ہے اور امپورٹ کور بڑھ کر 2.75 ماہ کی درآمدات کے برابر ہو گیا ہے جبکہ گذشتہ مالی سال میں یہ حجم 1.77 مہینوں کے مساوی تھا۔ سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر جولائی تا مئی 9 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جس میں اپریل کے مہینے میں ریکارڈ کی جانے والی 4.3 ارب ڈالر کی اب تک کی سب سے زیادہ ماہانہ ترسیلات بھی شامل ہیں اور توقع ظاہر کی گئی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک یہ 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی برآمدات جولائی تا اپریل 21 فیصد اضافے کے ساتھ 3.8 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جس میں فری لانسرز کا حصہ 49 فیصد اضافے کے ساتھ 959 ملین ڈالر رہا جو ایک ارب ڈالر کے سنگِ میل کے قریب پہنچ چکا ہے جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں جمع رقم 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ نجی شعبے کے قرضوں میں جولائی تا مارچ اضافہ دیکھا گیا اور یہ 934 ارب روپے رہے جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 768 ارب روپے تھے جبکہ زرعی قرضے 15 فیصد اضافے کے ساتھ 2162 ارب روپے تک پہنچ گئے جس سے کاروباری سرگرمیوں اور دیہی معیشت کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں زبردست اضافہ دیکھا گیا اور مئی 2026 تک سرمایہ کاروں کی تعداد 45 فیصد اضافے کے ساتھ 5 لاکھ 63 ہزار سے تجاوز کر گئی جس میں نوجوانوں اور پہلی بار سرمایہ کاری کرنے والوں کی بڑی تعداد شامل ہے جبکہ رواں برس 11 نئی کمپنیوں کی لسٹنگ (IPOs) ہوئی جو گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ کارپوریٹ اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق ملک میں کاروباری دستاویزی نظام اور کارپوریشن کو فروغ ملا اور 20.4 فیصد اضافے کے ساتھ 39 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں جن میں سے 99.9 فیصد ڈیجیٹل طور پر رجسٹرڈ کی گئیں اور اس طرح ملک میں کل رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ سماجی تحفظ کے حوالے سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا بجٹ 21 فیصد اضافے کے ساتھ 722.5 ارب روپے کر دیا گیا ہے تاکہ غریب ترین خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے جبکہ عوام کی مالیاتی وسائل تک رسائی کے لئے وزیرِ اعظم اپنا گھر پروگرام، زرخیز زرعی سکیم، پیو الیکٹرک وہیکل فنڈ، سوشل امپیکٹ اور یوتھ پروگرامز کے ذریعے نوجوانوں، کسانوں اور پسماندہ طبقات کی مدد کی جا رہی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق ٹیکسیشن کے نئے آپریٹنگ ماڈل، توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے اصلاحات
پی آئی اے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں(ڈسکوز)سمیت سرکاری اداروں کی نجکاری، وزارتوں اور محکموں کے رائٹ سائزنگ، پنشن ماڈل میں اصلاحات، کاروباری آسانیوں اور ڈیجیٹل پاکستان جیسے مشکل ساختی اصلاحاتی پروگرام کامیابی کے ساتھ نفاذ کے مراحل میں ہیں جن کے دور رس نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔








