عالمی چیلنجز، سیلاب اور علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان نے 3.7 فیصد معاشی نمو حاصل کی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال، تباہ کن سیلابوں، مشرق وسطیٰ کے بحران اور علاقائی کشیدگی جیسے بڑے چیلنجز کے باوجود مالی سال 2025-26 میں 3.7 فیصد مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو حاصل کر کے معاشی استحکام اور مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال، تباہ کن سیلابوں، مشرق وسطیٰ کے بحران اور علاقائی کشیدگی جیسے بڑے چیلنجز کے باوجود مالی سال 2025-26 میں 3.7 فیصد مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو حاصل کر کے معاشی استحکام اور مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں قومی اقتصادی سروے 2025-26 پیش کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تار،وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی سمیت چیئرمین ایف بی آر، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ سروے محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی معیشت کی مزاحمت، نظم و ضبط اور بحالی کی داستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال کے آغاز پر عالمی سطح پر ٹیرف اور تجارتی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا، بعد ازاں ملک کو شدید مون سون بارشوں اور سیلابوں نے متاثر کیا جبکہ بعد میں علاقائی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی حالات نے بھی دبائو بڑھایا تاہم حکومت نے موثر حکمت عملی اور بروقت فیصلوں کے ذریعے معیشت کو مستحکم رکھا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان گزشتہ چند برسوں کے دوران معاشی مشکلات سے نکل کر بتدریج ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے۔ 2023ء میں ملکی معیشت میں 0.2 فیصد سکڑائو آیا تھا جس کے بعد 2024ء میں 2.6 فیصد اور 2025ء میں 3.2 فیصد شرح نمو حاصل ہوئی جبکہ رواں مالی سال میں یہ شرح بڑھ کر 3.7 فیصد ہوگئی جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی بار 126.9 کھرب روپے یا 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر ہوگئی ہے۔

ان کے مطابق یہ پیش رفت معیشت میں بحال ہونے والے اعتماد اور مثبت رجحانات کی عکاس ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے باوجود 2.89 فیصد نمو حاصل کی۔ فصلات کے شعبے نے دوبارہ مثبت نمو کی طرف واپسی کی جبکہ لائیو سٹاک نے اپنی مضبوط کارکردگی برقرار رکھی۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے کی مجموعی پیداوار میں لائیو سٹاک کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے اور یہی شعبہ دیہی معیشت کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔صنعتی شعبے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر صنعتی شعبے نے 3.51 فیصد ترقی کی جبکہ بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم) میں 6.11 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 22 صنعتی شعبوں میں سے 16 نے مثبت کارکردگی دکھائی۔ خوراک، ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، پٹرولیم مصنوعات، برقی آلات اور دیگر مینوفیکچرنگ شعبوں میں پیداوار بڑھی جس سے کاروباری سرگرمیوں میں بہتری اور صنعتی اعتماد میں اضافے کا اظہار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام، شرح مبادلہ میں استحکام، مہنگائی میں کمی اور کاروباری ماحول میں بہتری نے صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ طلب کے اشاریوں سے بھی معیشت میں سرگرمی کا اندازہ ہوتا ہے۔ سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد، کھاد کی کھپت میں 17 فیصد اور گاڑیوں کی فروخت میں 31 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ پٹرولیم مصنوعات اور موبائل فون کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ خدمات کا شعبہ ملکی معیشت کا سب سے بڑا حصہ ہے اور اس کا مجموعی قومی پیداوار میں حصہ 58 فیصد سے زیادہ ہے۔ رواں مالی سال اس شعبے نے 4.09 فیصد ترقی کی جبکہ اطلاعات و مواصلات کے شعبے میں 7.52 فیصد کی نمایاں شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ ان کے مطابق یہ رجحان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی سرگرمیوں کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔مالیاتی شعبے کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھا جس کے نتیجے میں جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک آگیا جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 2.6 فیصد تھا۔ اسی طرح بنیادی سرپلس بڑھ کر 3.2 فیصد تک پہنچ گیا۔ مجموعی حکومتی آمدنی 10.7 فیصد اضافے کے بعد 14.8 کھرب روپے تک پہنچ گئی جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی وصولیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ سودی ادائیگیوں میں 23 فیصد کمی آئی جس کے باعث حکومت کو ترقیاتی اور سماجی شعبوں کے لیے زیادہ مالی گنجائش میسر آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت حکومت کی محتاط مالیاتی پالیسیوں اور معاشی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔افراط زر کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ پورے سال کے دوران مہنگائی کی شرح مجموعی طور پر قابو میں رہی اور جولائی تا اپریل اوسط مہنگائی 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث حالیہ مہینوں میں کچھ دبائو ضرور پیدا ہوا۔بیرونی شعبے کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران جاری کھاتہ 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سرپلس میں رہا جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر 8.2 فیصد اضافے سے 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ مارچ 2026ء کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 21.8 ارب ڈالر ہوگئے جس سے شرح مبادلہ میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملی

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج نے بھی شاندار کارکردگی دکھائی اور کے ایس ای-100 انڈیکس میں 18.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے مطابق مہنگائی میں کمی، شرح سود میں نرمی، بہتر معاشی اشاریوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے نے سرمایہ مارکیٹ کو تقویت دی۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت پاکستان کی ترقی کے نئے ستون کے طور پر ابھر رہی ہے۔ آئی سی ٹی برآمدات سے حاصل ہونے والی ترسیلات 19.7 فیصد اضافے کے ساتھ 3.38 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ فری لانسنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی برآمدی آمدنی 51 فیصد اضافے کے بعد 856 ملین ڈالر تک جا پہنچی۔ اسی طرح فائیو جی سپیکٹرم کی کامیاب نیلامی سے تقریباً 510 ملین ڈالر حاصل ہوئے جو پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

سماجی شعبے کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ شرح خواندگی بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی جبکہ سکولوں میں حاضری کی شرح 67 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ملک بھر میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی جبکہ اوسط متوقع عمر بڑھ کر 67.8 سال اور حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج 73 فیصد تک پہنچ گئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت جامع اور پائیدار ترقی کے وژن کے تحت سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ مالی سال کے دوران غریب دوست اخراجات 4.66 کھرب روپے تک پہنچ گئے جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت مختلف فلاحی منصوبوں کے ذریعے کمزور اور مستحق طبقات کی معاونت جاری رکھی گئی۔موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے لیکن اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2025ء کے سیلابوں سے 822 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے جس سے موسمیاتی مزاحمت، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی استحکام کو برقرار رکھنے، برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری کے فروغ، پیداواری صلاحیت میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی عمل جاری رکھے گی تاکہ آنے والے برسوں میں پاکستان پائیدار اور جامع معاشی ترقی کے اہداف حاصل کر سکے۔

مزید خبریں