وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان ریلویز میں جامع اصلاحات کے لئے سٹرٹیجک روڈ میپ کی منظوری دیتے ہوئے روڈ میپ پر عملدرآمد کے لیے عالمی شہرت یافتہ ماہرین اور کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ریلویز میں جامع اصلاحات کیلئے سٹرٹیجک روڈ میپ کی منظوری دیدی، عملدرآمد کیلئے عالمی ماہرین اور کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان ریلویز میں جامع اصلاحات کے لئے سٹرٹیجک روڈ میپ کی منظوری دیتے ہوئے روڈ میپ پر عملدرآمد کے لیے عالمی شہرت یافتہ ماہرین اور کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت پاکستان ریلویز میں اصلاحات کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم نے پاکستان ریلویز میں جامع اصلاحات کے لئے سٹرٹیجک روڈ میپ کی منظوری دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلویز میں عوام کے لئے سفر اور مال برداری کیلئے نقل و حمل کا محفوظ اور سستا ذریعہ بننے کی بھرپور استعداد موجود ہے ۔
انہوں نے کہا کہ فریٹ سروس ریلوے نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مال برداری کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دیا جائے۔ وزیراعظم نے ریلوے اصلاحات کے روڈ میپ پر عملدرآمد کے لیے عالمی شہرت یافتہ ماہرین اور کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلویز میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے نظام کی بہتری سے سڑکوں پر ٹریفک کا دبائو کم ہوگا، جدید اور موثر ریلوے نظام کاربن اخراج میں کمی اور ماحول دوست نقل و حمل کے فروغ میں مددگار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلویز کی ترقی علاقائی روابط کے فروغ اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بنے گی، ریلویز کی زمینوں پر نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے حاصل شدہ آمدنی کو ریلوے نظام کی بہتری کے لئے استعمال میں لایا جائے۔
اجلاس کو پاکستان ریلویز میں جامع اصلاحات کے سٹریٹجک روڈ میپ اور اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ روڈ میپ میں مسافروں اور مال بردار دونوں شعبوں میں مارکیٹ شیئر بڑھانے کے اہداف شامل ہیں۔ ریلوے خدمات کے معیار میں بہتری، نیٹ ورک کی استعداد میں اضافہ اور مالی استحکام روڈ میپ کے اہم ستون ہوں گے۔ اس روڈ میپ میں ریلویز کے گورننس نظام میں بہتری، ڈیجیٹائزیشن، ریلوے لائنز کی توسیع، علاقائی روابط، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے نجی شعبے کی شمولیت اور مالی استحکام قائم کرنے کے اہداف شامل ہیں۔
جدید کوچز کا استعمال، ٹرینوں اور سٹیشنز پر مسافروں کے لیے سہولیات کی فراہمی، ، ایم ایل ون ، ایم ایل ٹو اور ایم ایل تھری اور دیگر ٹریکس کی اپ گریڈیشن، رائٹ سائزنگ بھی اصلاحات کا حصہ ہیں۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد حنیف عباسی، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔








