ملک میں طویل المدتی بنیادوں پر غربت میں نمایاں کمی ریکارڈ

ملک میں طویل المدتی بنیادوں پر غربت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تاہم حالیہ برسوں میں آنے والے متعدد ملکی و عالمی اثرات نے عوامی بہبود اور گھریلو اخراجات پر نئے دبائو ڈالے ہیں۔

اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):ملک میں طویل المدتی بنیادوں پر غربت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تاہم حالیہ برسوں میں آنے والے متعدد ملکی و عالمی اثرات نے عوامی بہبود اور گھریلو اخراجات پر نئے دبائو ڈالے ہیں۔ اقتصادی سروے رپورٹ 26-2025 کے اعدادوشمار کے مطابق کووڈ-19 کے اثرات، مہنگائی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلیاں، سیلاب کی تباہ کاریاں اور معاشی اصلاحات کے نتیجے میں سال 25-2024 کے دوران ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔حکومت نے ان چیلنجز کے جواب میں غریب اور کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے فعال اقدامات کیے اور سماجی تحفظ و تخفیف غربت پروگراموں پر اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا۔

جاری مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران سماجی تحفظ اور غربت میں کمی کے لیے اخراجات کی مجموعی مالیت 4.66 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ سماجی تحفظ و بہبود، قدرتی آفات کے خلاف اقدامات، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، ماحولیات، پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی، اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں کیا گیا۔مستحقین تک براہ راست ریلیف پہنچانے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جو کہ ملک کے سب سے بڑے نقد منتقلی کے فلیگ شپ پروگرام کے طور پر کام کر رہا ہے جس کے لیے مالی سال 2026 کے لیے 722.49 ارب روپے مختص کیے گئے۔ غریب خاندانوں کو غیر مشروط نقد معاونت ، مشروط نقد معاونت ، تعلیم، نشوونما اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے مستحق افراد کو مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان بیت المال، زکوٰۃ، ورکرز ویلفیئر فنڈ ، ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن اور پاکستان پاورٹی ایلویشن فنڈ نے بھی اپنا فعال کردار جاری رکھا۔ ان اداروں کے ذریعے کمزور طبقات کو ویلفیئر گرانٹس، پنشن، روزگار کی فراہمی، کمیونٹی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور مالیاتی شمولیت کے منصوبوں میں معاونت دی گئی جبکہ مائیکرو فنانس سروسز نے قرضوں، بچت اور انشورنس کی سہولیات فراہم کر کے کم آمدنی والے گھرانوں کی مدد میں اہم کردار ادا کیا۔

 

مزید خبریں