پاکستان کی شرح خواندگی میں بہتری، 63 فیصد تک پہنچ گئی، صنفی مساوات کا اشاریہ 96 فیصد ریکارڈ

پاکستان نے معیاری تعلیم سے متعلق پائیدار ترقی کے ہدف (ایس ڈی جی 4) کے حصول کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچا دی ہے جبکہ بنیادی سطح پر صنفی مساوات کا اشاریہ 96 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):پاکستان نے معیاری تعلیم سے متعلق پائیدار ترقی کے ہدف (ایس ڈی جی 4) کے حصول کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچا دی ہے جبکہ بنیادی سطح پر صنفی مساوات کا اشاریہ 96 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جمعرات کو جاری پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق تعلیم کے شعبے میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے اور ملک بھر میں پرائمری، مڈل اور سیکنڈری سطح پر داخلوں میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کی خواندگی کا اشاریہ 86 فیصد تک پہنچ گیا ہے جبکہ ثانوی تعلیم میں صنفی مساوات کا اشاریہ 91 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو لڑکوں اور لڑکیوں کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی جانب مثبت پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ سروے کے مطابق پاکستان میں عددی مہارت (Numeracy) کی شرح 79 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو بنیادی ریاضیاتی صلاحیتوں میں بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔

اسی طرح مجموعی خواندگی کی شرح 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے جبکہ سکول سے باہر بچوں کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی ہے۔اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ تعلیم کا شعبہ مالی سال 2025-26 میں 5.23 فیصد ترقی کے ساتھ مقررہ ہدف سے بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہا۔ حکومت کی جانب سے تعلیمی رسائی، صنفی مساوات اور معیار تعلیم میں بہتری کے لیے جاری اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ سروے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اگرچہ بنیادی تعلیم اور خواندگی کے اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے تاہم معیاری تعلیم، جدید تکنیکی مہارتوں اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کے فروغ کے لیے مزید سرمایہ کاری اور اقدامات کی ضرورت برقرار ہے تاکہ 2030ء تک ایس ڈی جی 4 کے اہداف مکمل طور پر حاصل کیے جا سکیں۔

 

مزید خبریں