کینیڈین ہائی کمیشن اسلام آباد کے تین رکنی وفد نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا دورہ
کینیڈین ہائی کمیشن اسلام آباد کے تین رکنی وفدکا زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا دورہ

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 11 جون (اے پی پی):کینیڈین ہائی کمیشن اسلام آباد کے تین رکنی وفد نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا دورہ کیا اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی، ڈینز و ڈائریکٹرز سے ملاقات کی۔ وفد میں ہیڈ آف کوآپریشن ہیریئٹ روز، ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ سکیورٹی اینڈ نیوٹریشن و زرعی ماہر نکیتا ایرکسن-ہیمل اور سینئر ڈویلپمنٹ آفیسر فریدہ رحمت گیلانی شامل تھیں۔
ملاقات میں تحقیق، تدریس، زراعت، بیج سازی، اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم، زمین کی زرخیزی، حیوانی علوم اور ویٹرنری سائنسز کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اس موقع پر ہیریئٹ روز نے کہا کہ کینیڈا کی پالیسی ترجیحات کے تناظر میں ایسے مواقع تلاش کر رہے ہیں جن کے ذریعے پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کو باہمی اقتصادی مفادات اور ترقیاتی اہداف سے زیادہ مؤثر انداز میں ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت اور ایگرو فوڈ سیکٹر میں تعاون سے غذائی استحکام کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہو جا سکتا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ زرعی تحقیق، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کاشتکاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، کاروباری صلاحیتوں کے فروغ اور صنعت و اکیڈیمیا روابط کے حوالے سے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان تعاون پاکستان کے زرعی شعبے کی پائیداری اور مضبوطی میں سنگ میل ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کسانوں اور کاروباری برادری کے ساتھ روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنے آؤٹ ریچ پروگرامز کو وسعت دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیج، جانوروں کی خوراک، کھادیں، ویکسینز اور زرعی مشینری ایسے اہم شعبے ہیں جن میں کینیڈین اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مزید فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی یونیورسٹی کے مختلف کینیڈین اداروں کے ساتھ پہلے سے تعاون کے معاہدے موجود ہیں اور مشترکہ ڈگری پروگرامز کو دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ مسٹر نکیتا ایرکسن ہیمل نے کہا کہ کینیڈا میں زرعی و غذائی شعبے کی جدت کے فروغ کے لیے متعدد نجی شعبے پر مبنی نیٹ ورکس قائم کیے جا رہے ہیں جو بین الاقوامی تعاون کے نئے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ وفد نے یونیورسٹی کے ایگزیبیشن سنٹر کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں طلبہ، محققین اور کاروباری افراد کی جانب سے تیار کردہ جدید مصنوعات، تحقیقی کامیابیوں اور کمرشلائزیشن اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔








