پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کے زرعی شعبے نے 2.89 فیصد ترقی کی جو گزشتہ مالی سال کی 1.53 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔
اقتصادی سروے 2025-26: زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کے زرعی شعبے نے 2.89 فیصد ترقی کی جو گزشتہ مالی سال کی 1.53 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔اقتصادی سروے کے مطابق حکومت کی بروقت پالیسیوں اور امدادی اقدامات نے 2025 کے سیلابوں کے باوجود زرعی شعبے کو سہارا دیا، جس کے باعث فصلوں کے ذیلی شعبے نے توقعات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔فصلوں کے ذیلی شعبے میں 1.44 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ سال اس شعبے میں 1.01 فیصد منفی نمو دیکھی گئی تھی۔
یہ بہتری بنیادی طور پر اہم فصلوں کی بہتر پیداوار کے باعث ممکن ہوئی۔رپورٹ کے مطابق خریف کی فصلوں نے مجموعی طور پر بہتر نتائج دیے کیونکہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات ابتدائی اندازوں سے کم رہے اور کپاس اور مکئی کے علاوہ بیشتر فصلوں کی پیداوار گزشتہ سال سے زیادہ رہی۔اہم فصلوں، جن میں کپاس، چاول، گنا، مکئی اور گندم شامل ہیں کی مجموعی پیداوار میں 0.65 فیصد اضافہ ہوا۔ گنا، گندم اور چاول کی بہتر پیداوار نے کپاس اور مکئی کی پیداوار میں کمی کے اثرات کو کافی حد تک زائل کر دیا۔اعداد و شمار کے مطابق گنا کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 84.24 ملین ٹن سے بڑھ کر 89.45 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔گندم کی پیداوار 4.3 فیصد اضافے کے ساتھ 28.40 ملین ٹن سے بڑھ کر 29.61 ملین ٹن رہی۔
چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 9.72 ملین ٹن سے بڑھ کر 9.99 ملین ٹن ہوگئی۔دوسری جانب مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔کپاس کی پیداوار 0.5 فیصد کم رہی۔سروے کے مطابق دیگر فصلوں کے شعبے نے 2.43 فیصد نمو حاصل کی۔ اس بہتری میں دالوں، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار میں اضافے نے اہم کردار ادا کیا۔دالوں کی پیداوار میں 31.4 فیصد ،سبزیوں کی پیداوار میں 12.6 فیصدجبکہ پھلوں کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ادھر کاٹن جننگ اور متفرق زرعی سرگرمیوں کے شعبے، جس کا زراعت میں حصہ 1.04 فیصد اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) میں 0.24 فیصد ہے، نے 0.07 فیصد معمولی نمو حاصل کی، جس کی بنیادی وجہ کپاس کی کم پیداوار رہی۔
اقتصادی سروے کے مطابق لائیو اسٹاک (مویشی پالنے) کا شعبہ، جو زراعت کا سب سے بڑا جزو اور قومی معیشت کا اہم ستون ہے، مالی سال 2025-26 میں 3.75 فیصد ترقی کر گیا، جبکہ گزشتہ سال اس کی شرح نمو 2.95 فیصد تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سبز چارے کی دستیابی میں 4.5 فیصد کمی کے باوجود لائیو اسٹاک کی پیداوار میں 3.46 فیصد اضافہ ہوا جس نے اس شعبے کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔








