وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کا اجلاس، پانچویں ریگولیٹری ریفارمز پیکج کا جائزہ لیا گیا

وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کا اجلاس، پانچویں ریگولیٹری ریفارمز پیکج کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات (سی سی او آر آر) کے اجلاس کی صدارت کی ،جس میں پانچویں ریگولیٹری ریفارمز پیکج کا جائزہ لیا گیا۔ اس پیکج کا مقصد وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر جام کمال خان، معاون خصوصی برائے وزیراعظم ہارون اختر خان، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سینئر افسران، ریگولیٹری اصلاحاتی ٹیم کے اراکین اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔کمیٹی نے پانچویں ریگولیٹری ریفارمز پیکج کا تفصیلی جائزہ لیا جس میں دو اہم شعبوں ماہی گیری و آبی زراعت اور ڈیری و بیوریجز پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں شعبوں کو وفاقی اور صوبائی سطح پر پیچیدہ اور کثیر الجہتی ضوابط کا حامل قرار دیا گیا جو سرمایہ کاری، ترقی اور برآمدات میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ فشریز کے شعبے میں 55 ریگولیٹری تقاضے موجود ہیں جن میں 24 مختلف محکمے شامل ہیں جبکہ 22 لائسنس اور اجازت نامے باقاعدہ تجدید کے متقاضی ہیں۔ مزید برآں کاروباری اداروں کو 266 دستاویزات جمع کروانا پڑتی ہیں جن میں تقریباً 77 فیصد دہرائو پایا جاتا ہے۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ اس قدر بھاری ریگولیٹری بوجھ فشریز سیکٹر کی برآمدات میں رکاوٹ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت بحری امور میں اپنی سابقہ ذمہ داریوں کے دوران بہتری کی کوششیں کی گئیں تاہم اس شعبے کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے مزید اصلاحات ناگزیر ہیں۔معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ اختیارات کے باہمی تداخل اور عملدرآمد میں دہرائو بڑے مسائل ہیں جنہیں ساختی اصلاحات کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔ وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ فشریز ایک اعلیٰ قدر کا مخصوص شعبہ ہے تاہم بھاری ضوابط کے باوجود عملدرآمد میں خامیاں موجود ہیں جو نظامی کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔

بین الاقوامی ماہر سکاٹ جیکبز نے نشاندہی کی کہ موجودہ نظام کاروبار کے بجائے ریگولیٹرز کی سہولت کے لیے ترتیب دیا گیا ہے اور اس میں عالمی بہترین طریقوں جیسے ون ونڈو آپریشنز اور مزید سادگی کی ضرورت ہے۔ریگولیٹری ٹیم نے اہم مسائل کی نشاندہی کی جن میں تقاضوں کا دہرائو، مکمل طور پر کاغذی نظام اور محکموں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ اور مرکزی رجسٹریشن کا فقدان شامل ہیں۔ مختلف سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد بورڈ آف انویسٹمنٹ نے متعدد اصلاحات تجویز کیں جن میں غیر ضروری تقاضوں کا خاتمہ، مختلف مراحل کو سادہ طریقہ کار میں ضم کرنا اور اہم مراحل کی ڈیجیٹلائزیشن شامل ہے،ان اصلاحات پر وسیع اتفاق رائے پایا گیا۔اجلاس میں بعض پالیسی امور پر تفصیلی غور کیا گیا جن میں خصوصی اقتصادی زون میں جوائنٹ وینچرز پر پابندی شامل تھی۔ وزارت بحری امور اس پابندی کو برقرار رکھنے کے لیے تسلی بخش جواز فراہم نہ کر سکی۔

کمیٹی نے متفقہ طور پر جوائنٹ وینچرز کی حمایت کی اور کہا کہ یہ غیر ملکی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مہارتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ اتفاق کیا گیا کہ مخصوص شرائط کے تحت جوائنٹ وینچرز کی اجازت دی جائے جن میں پاکستانی شراکت داری کی اکثریت، پاکستانی پرچم بردار جہاز اور ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہیں۔کمیٹی نے دیگر عملی مسائل جیسے کشتیوں کی رجسٹریشن (جو اس وقت متعدد اداروں کے تحت ہے)، فشنگ پرمٹس اور برتھنگ چارجز پر بھی غور کیا اور ان کی سادہ کاری کی ہدایت دی۔ مزید برآں ہدایت کی گئی کہ تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی سٹیک ہولڈرز کو مطلع کیا جائے اور 30 دن کے اندر کمیٹیاں تشکیل دے کر اصلاحات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ فشریز سیکٹر میں بے پناہ معاشی امکانات موجود ہیں اور صرف ٹونا مچھلی کی برآمدات تقریباً 2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں جو فوری اصلاحات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ڈیری اور بیوریجز سیکٹر سے متعلق امور کو مزید غور کے لیے آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔تمام شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اصلاحات کا بنیادی مقصد کاروباری ماحول کو بہتر بنانا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ نے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی قیادت میں ریگولیٹری اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ پاکستان کو ایک مسابقتی اور کاروبار دوست معیشت بنایا جا سکے۔

 

مزید خبریں