چیف جسٹس آف پاکستان اور چیئرمین لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان (LJCP) کا 48واں اجلاس جمعرات کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا جس میں قانون و عدالتی اصلاحات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
قانون و انصاف کمیشن نے بینکاری تنازعات کے لیے متبادل تنازعہ حل نظام کی منظوری دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان اور چیئرمین لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان (LJCP) کا 48واں اجلاس جمعرات کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا جس میں قانون و عدالتی اصلاحات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں لاہور، سندھ، پشاور اور بلوچستان ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر، سیکرٹری وزارت قانون و انصاف، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء سمیت کمیشن کے اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں مالیاتی اداروں سے متعلق تنازعات کے فوری اور کم خرچ حل کے لیے متبادل تنازعہ حل (ADR) نظام متعارف کرانے کی منظوری دی گئی۔ اس مقصد کے لیے فنانشل انسٹی ٹیوشنز (ریکوری آف فائنانسز) آرڈیننس 2001 میں نیا سیکشن 10-A شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
کمیشن کو بتایا گیا کہ یہ تجویز 30 اپریل 2026 کو چیئرمین کی زیر صدارت ہونے والی اسٹیک ہولڈرز مشاورت کے بعد سامنے آئی تھی جس میں وزارت خزانہ، وزارت قانون، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، بینکنگ محتسب اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔منظور شدہ فریم ورک کے تحت ADR کمیٹیاں قائم کی جائیں گی جن میں قانون، بینکاری اور تجارت کے ماہرین شامل ہوں گے تاکہ باہمی رضامندی سے تنازعات کے حل، مقدمہ بازی میں کمی اور رقوم کی بروقت وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں جاری قانون سازی اور اصلاحاتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں ضابطہ فوجداری 1898، فیملی لاز، اسپیسیفک ریلیف ایکٹ 1877 اور ای فائلنگ قواعد میں اصلاحات شامل ہیں۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ سی آر پی سی اور فیملی کورٹس ایکٹ میں ترامیم کے مسودے تیار کر لیے گئے ہیں جو ارکان کی رائے کے لیے جلد ارسال کیے جائیں گے۔
اسی طرح اسپیسیفک ریلیف ایکٹ اور ای فائلنگ سے متعلق قواعد کے مسودے بھی تیاری کے مراحل میں ہیں اور مکمل ہونے پر ارکان کو بھجوائے جائیں گے۔کمیشن نے انسولونسی ایکٹ 1920 اور سول پروسیجر کوڈ 1908 میں ترامیم کی تجاویز پر بھی غور کیا، جن کا مقصد معاشی حقائق سے ہم آہنگی اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے انصاف تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین لا اینڈ جسٹس کمیشن نے کہا کہ بروقت اور مؤثر تنازعات کا حل عدالتی نظام پر عوامی اعتماد میں اضافے، معاشی ترقی اور انصاف تک مؤثر رسائی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے قانونی اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور متبادل تنازعہ حل نظام کے فروغ پر زور دیا۔انہوں نے کمیشن کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عدالتی نظام کو مزید مؤثر، قابل رسائی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔








