ملک میں کام کرنے کی عمر کے حامل افراد کی آبادی مالی سال 2020-21 میں 159.8 ملین سے بڑھ کر 2024-25 میں 179.6 ملین تک پہنچ گئی

ملک میں کام کرنے کی عمر کے حامل افراد کی آبادی مالی سال 2020-21 میں 159.8 ملین سے بڑھ کر 2024-25 میں 179.6 ملین تک پہنچ گئی

اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):ملک میں کام کرنے کی عمر کے حامل افراد کی آبادی مالی سال 2020-21 میں 159.8 ملین سے بڑھ کر 2024-25 میں 179.6 ملین تک پہنچ گئی جو ملکی تاریخ میں افرادی قوت کی ریکارڈ سپلائی کو ظاہر کرتی ہے۔ جمعرات کو جاری قومی اقتصادی سروے 2025-26 میں افرادی قوت کے حوالے سے مالی سال 2020-21 اور 2024-25 کا موازنہ پیش کیا گیا جس کے مطابق ملک کی کل لیبر فورس 71.8 ملین سے بڑھ کر 83.1 ملین ہو گئی ہے جبکہ برسرِ روزگار افراد کی تعداد 67.25 ملین سے بڑھ کر 77.2 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے برعکس ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 4.51 ملین سے بڑھ کر 5.9 ملین ہو گئی ہے جو نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی فوری ضرورت کی نشاندہی کرتی ہے۔ سروے کے مطابق مارکیٹ میں افرادی قوت کی شمولیت کی شرح (لیبر فورس پارٹیسیپیشن ریٹ) 44.9 فیصد سے بہتر ہو کر 46.3 فیصد ہو گئی ہے جس میں خواتین اور نوجوانوں کا رجحان نمایاں ہے۔

سروے کے مطابق ملکی معیشت میں روزگار کے بدلتے رجحانات اور ساختی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے جس کے تحت زراعت اب بھی روزگار فراہم کرنے والا سب سے بڑا شعبہ ہونے کے باوجود اس کا حصہ 37.4 فیصد سے کم ہو کر 33.1 فیصد رہ گیا ہے۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور یہ 14.9 فیصد سے معمولی کمی کے ساتھ 14.8 فیصد پر رہا جو صنعتی ترقی کی سست رفتاری کو ظاہر کرتا ہے جبکہ انفراسٹرکچر اور ہائوسنگ سکیموں کی بدولت تعمیراتی شعبے کا حصہ 9.5 فیصد سے بڑھ کر 9.9 فیصد ہو گیا ہے۔ معاشی رپورٹ کے مطابق تجارتی سرگرمیوں میں اضافے سے ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ کا شعبہ 14.5 فیصد سے بڑھ کر 16 فیصد پر پہنچ گیا ہے جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں توسیع کے باعث کمیونٹی اور پرسنل سروسز کے سیکٹر میں سب سے بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے جو 16 فیصد سے بڑھ کر 17.9 فیصد ہو گیا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملکی افرادی قوت اب زراعت سے غیر زرعی شعبوں کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔

مزید خبریں