اقتصادی سروے 26-2025 : ایس ای سی پی کی اصلاحات ،کیپیٹل مارکیٹ اور کارپوریٹ سیکٹر میں نمایاں ترقی
اقتصادی سروے 26-2025 : ایس ای سی پی کی اصلاحات ،کیپیٹل مارکیٹ اور کارپوریٹ سیکٹر میں نمایاں ترقی

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):اقتصادی سروے 26-2025 کے مطابق سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی اصلاحاتی پالیسیوں نے ملک کی کیپٹل مارکیٹس اور کارپوریٹ سیکٹر کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا جبکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) مالی سال 26-2025 کے پہلے 9ماہ کے دوران دنیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی سٹاک مارکیٹس میں شامل رہی۔سروے کے مطابق جولائی تا مارچ 26-2025 کے دوران کے ایس ای-100 انڈیکس میں 18.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 125,627 پوائنٹس سے بڑھ کر 148,743 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ اسی عرصے میں مارکیٹ کیپٹلائزیشن 16.5 کھرب روپے تک بڑھ گئی جبکہ یومیہ اوسط تجارتی حجم 834 ملین حصص سے بڑھ کر 1.2 ارب حصص تک پہنچ گیا جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور ایس ای سی پی کی اصلاحات کا مظہر ہے۔
سروے کے مطابق پاکستان کی بنچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس نے دنیا کی بیشتر بڑی اسٹاک مارکیٹوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کارکردگی کے پیچھے افراط زر میں کمی، آئی ایم ایف پروگرام کے کامیاب جائزے، بیرونی شعبے میں بہتری اور دوطرفہ و کثیرالجہتی شراکت داروں سے مالی معاونت اہم عوامل رہے۔اکنامک سروے میں کہا گیا ہے کہ ایس ای سی پی کی اصلاحات جن میں ٹی پلس ون سیٹلمنٹ سسٹم، پبلک آفرنگ اصلاحات، سرمایہ کاروں کے لئے سہولتوں میں اضافہ، ڈیجیٹل آن بورڈنگ پلیٹ فارمز، بہتر کارپوریٹ انکشافات اور مارکیٹ ڈویلپمنٹ اقدامات شامل ہیں، نے سرمایہ مارکیٹ کو وسعت دینے، شفافیت بڑھانے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔کارپوریٹ سیکٹر نے بھی نمایاں ترقی کا مظاہرہ کیا۔ جولائی تا مارچ 26-2025 کے دوران 31 ہزار 986 نئی کمپنیوں کا اندراج کیا گیا جس کے بعد ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 94 ہزار 101 ہو گئی۔
نئی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ 67 ارب روپے رہا جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، تجارت اور خدمات کے شعبے نئی رجسٹریشنز میں سرفہرست رہے۔سروے کے مطابق کاروبار میں آسانی کے لئے ایس ای سی پی نے متعدد اقدامات متعارف کرائے جن میں غیر لسٹڈ کمپنیوں کے شیئرز کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن، بینک اکاؤنٹس کے فوری اجرا کی سہولت، مختلف اداروں کے درمیان نظامی انضمام اور کارپوریٹ ری سٹرکچرنگ فریم ورک میں اصلاحات شامل ہیں۔قرضہ جاتی مارکیٹ میں اس عرصے کے دوران 12.45 ارب روپے مالیت کی چھ ڈیٹ سکیورٹیز جاری کی گئیں جبکہ دسمبر 2023 میں پی ایس ایکس پر مبنی حکومتی قرضہ جاتی نیلامی پلیٹ فارم کے آغاز سے مارچ 2026 تک حکومت نے 5.1 کھرب روپے حاصل کئے۔ مارچ 2026 تک زیرِ گردش قرضہ جاتی سکیورٹیز کا حجم 133.6 ارب روپے رہا۔نان بینکنگ مالیاتی شعبے میں بھی توسیع دیکھنے میں آئی۔ میوچل فنڈز کے زیر انتظام اثاثے 4.54 کھرب روپے تک پہنچ گئے جبکہ مجموعی میوچل فنڈ انڈسٹری کا حجم 5.64 کھرب روپے ہو گیا۔
رضاکارانہ پنشن فنڈز کے اثاثے 138 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (ریٹس) کی تعداد بڑھ کر 29 ہو گئی اور ان کا مجموعی حجم 173 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ اسلامی مالیاتی شعبے نے بھی مضبوط پیشرفت جاری رکھی۔ جولائی تا مارچ 26-2025 کے دوران ایس ای سی پی نے 229.6 ارب روپے مالیت کے 53 کارپوریٹ سکوک اجرا ء کے لئے شریعہ کمپلائنس سرٹیفکیٹس جاری کئے جبکہ حکومتی سکوک کا اجرا ء 1.86 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔ مارچ 2026 تک شریعہ کمپلائنس سکیورٹیز کا حصہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کا 64 فیصد رہا۔اکنامک سروے کے مطابق پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کو مزید وسعت دینے، سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے اور کاروباری اداروں و مالیاتی اداروں کی شرکت کو فروغ دینے کے لئے معاشی استحکام، اصلاحات کے تسلسل اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے اقدامات مستقبل میں بھی کلیدی اہمیت کے حامل رہیں گے۔








