محکمہ جنگلات و جنگلی حیات حکومت بلوچستان نے اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے تعاون سے پشین-لورہ، ہنگول، ناری اور ہامونِ مشکیل دریائی بیسنز میں چراگاہی وسائل کے جائزہ اور نقشہ سازی سے متعلق ایک توثیقی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ورکشاپ کا مقصد چاروں دریائی بیسنز میں کیے گئے تفصیلی فیلڈ سرویز کی بنیاد پر تیار کردہ جائزہ رپورٹس کے نتائج اور اعداد و شمار کی توثیق کرنا تھا۔ …
صحت مندچراگاہیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، مویشیوں کی پیداوار، آبی ذخائر کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے ناگزیر ہیں،سیکرٹری جنگلات

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 11 جون (اے پی پی):محکمہ جنگلات و جنگلی حیات حکومت بلوچستان نے اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے تعاون سے پشین-لورہ، ہنگول، ناری اور ہامونِ مشکیل دریائی بیسنز میں چراگاہی وسائل کے جائزہ اور نقشہ سازی سے متعلق ایک توثیقی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ورکشاپ کا مقصد چاروں دریائی بیسنز میں کیے گئے تفصیلی فیلڈ سرویز کی بنیاد پر تیار کردہ جائزہ رپورٹس کے نتائج اور اعداد و شمار کی توثیق کرنا تھا۔ یہ سروے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان اور ایف اے او کے درمیان طے پانے والے معاہدے (LOA) کے تحت منعقد کیا گیا، جس کی قیادت کنزرویٹر فاریسٹ اور LOA منیجر ایف اے او جعفر علی بلوچ نے کی۔ ان کی نگرانی میں سروے ٹیموں نے چاروں دریائی بیسنز میں کامیابی سے فیلڈ اسیسمنٹ مکمل کی، جبکہ تکنیکی ماہرین نے نتائج کو جامع رپورٹس کی شکل دی جنہیں FAO کے متعلقہ ماہرین نے جانچ کر منظور کیا۔ورکشاپ کی صدارت سیکرٹری محکمہ جنگلات و جنگلی حیات عمران گچکی نے کی جبکہ FAO بلوچستان کے انٹرنیشنل پروگرام کوآرڈینیٹر ولید مہدی شریک صدر تھے۔ تقریب میں محکمہ جنگلات کے اعلی حکام، FAO کے نمائندوں، تکنیکی ماہرین، محققین اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔افتتاحی خطاب میں جعفر علی بلوچ نے اس جائزے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ورکشاپ کا مقصد تکنیکی آرا، ماہرین کی تجاویز اور سفارشات حاصل کرکے رپورٹس کو مزید موثر اور جامع بنانا ہے۔ انہوں نے سروے کے تمام مراحل بشمول ٹیموں کی تشکیل، فیلڈ سروے، استعمال ہونے والے آلات، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور تجزیے کے طریقہ کار اور رپورٹ سازی کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ڈاکٹر محمد عیسی جان نے ورکشاپ کے مقاصد اور متوقع نتائج پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت جائزہ رپورٹس کی شفافیت، درستگی اور ساکھ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
نیچرل ریسورس مینجمنٹ ایڈوائزر ڈاکٹر فیض الباری نے چراگاہی وسائل کے جائزہ اور نقشہ سازی کی ضرورت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل مستقبل کی منصوبہ بندی، بحالی اور چراگاہی وسائل کے پائیدار انتظام کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے۔چیف کنزرویٹر فاریسٹ (نارتھ)علی عمران نے ورکشاپ کا افتتاح کرتے ہوئے محکمہ جنگلات، FAO اور دیگر شراکت داروں کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا اور تکنیکی معاونت پر FAO کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مستقبل میں بھی اس نوعیت کے اشتراکی اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔تکنیکی سیشن کے دوران پشین-لورہ دریائی بیسن کی رپورٹ جعفر علی بلوچ اور ڈاکٹر عمران نے پیش کی، جبکہ ہنگول بیسن کی رپورٹ نعیم جاوید، ناری بیسن کی رپورٹ سید اچکزئی اور ہامونِ مشکیل بیسن کی رپورٹ غلام سرور نے پیش کی۔ ان رپورٹس میں چراگاہی وسائل کی موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور بحالی و پائیدار انتظام کے لیے سفارشات کو اجاگر کیا گیا۔اختتامی سیشن میں چیف کنزرویٹر فاریسٹ (ساوتھ)اسلم بزدار نے سروے ٹیموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان نتائج کو شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور وسائل کے موثر انتظام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ چیف کنزرویٹر فاریسٹ علی عمران نے رپورٹس کے اعلی تکنیکی معیار کو سراہتے ہوئے سفارشات پر عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ایف اے او بلوچستان کے پروگرام کوآرڈینیٹر ولید مہدی نے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی کوششوں کو سراہتے ہوئے بلوچستان میں قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے ادارے کے مسلسل تعاون کا اعادہ کیا۔اپنے اختتامی خطاب میں سیکرٹری محکمہ جنگلات و جنگلی حیات عمران گچکی نے محکمہ جنگلات اور FAO کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا اور جعفر علی بلوچ کی قیادت، لگن اور صبر کو خصوصی خراج تحسین پیش کیا، جن کی بدولت متعدد چیلنجز کے باوجود RRAM سروے کامیابی سے مکمل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ توثیق شدہ رپورٹس پالیسی سازی، سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی اور چراگاہی وسائل کے پائیدار انتظام کے لیے مضبوط سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحت مند چراگاہیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، مویشیوں کی پیداوار، آبی ذخائر کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہیں، اور ہدایت کی کہ جائزے کی سفارشات کو مستقبل کی ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کیا جائے۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکا نے متعدد اہم سفارشات پیش کیں اور بلوچستان بھر میں شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، چراگاہوں کی بحالی اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔








