صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان وفاقی اور صوبائی سطح پر بچوں سے مشقت کے خاتمے اور بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار بچوں کی مشقت (چائلڈ لیبر) کے خلاف عالمی دن پر اپنے پیغام میں کیا۔
پاکستان وفاقی اور صوبائی سطح پر بچوں سے مشقت کے خاتمے اور بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری کا بچوں کی مشقت (چائلڈ لیبر) کے خلاف عالمی دن پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان وفاقی اور صوبائی سطح پر بچوں سے مشقت کے خاتمے اور بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار بچوں کی مشقت (چائلڈ لیبر) کے خلاف عالمی دن پر اپنے پیغام میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی مشقت کے خلاف عالمی دن پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر بچوں کو استحصال سے محفوظ رکھنے، ہر بچے کو ایک محفوظ ماحول میں پرورش پانے اور تعلیم حاصل کرنے کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بچوں کا تحفظ آئین پاکستان کا حصہ ہے جس میں آئین کا آرٹیکل 11 غلامی، جبری مشقت اور بچوں کو خطرناک نوعیت کے کاموں میں ملازمت دینے کی ممانعت کرتا ہے جبکہ آرٹیکل 25-اے پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئینی دفعات ریاست کی اس ذمہ داری کو واضح کرتی ہیں کہ وہ بچوں کے تحفظ اور تعلیم کے فروغ کو یقینی بنائے۔
صدر نے کہا کہ بچوں سے مشقت کے ان کی زندگی اور مستقبل پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، محنت مزدوری میں مصروف بچے اکثر تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں یا تعلیمی لحاظ سے پیچھے رہ جاتے ہیں جس سے ان کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں، صلاحیتوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور پہلے سے مشکلات کے شکار خاندانوں پر مزید بوجھ پڑتا ہے، لہٰذا بچوں کی تعلیم کو برقرار رکھنا صرف ان کے تحفظ کا معاملہ نہیں بلکہ طویل المدتی سماجی اور معاشی فلاح و بہبود کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان وفاقی اور صوبائی سطح پر بچوں سے مشقت کے خاتمے اور بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، ہماری توجہ اس مسئلے کی روک تھام، موجودہ قوانین کے موثر نفاذ اور ایسے بچوں کی معاونت پر مرکوز ہے جنہیں دوبارہ تعلیم اور ایک محفوظ و مستحکم ماحول کی طرف واپس لانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں والدین، آجرین، اساتذہ، مذہبی رہنمائوں، سول سوسائٹی اور تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بچوں کو استحصال سے محفوظ رکھنے اور ان کی تعلیم برقرار رکھنے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کا معیار وہاں پر بچوں سے سلوک سے جانچا جاتا ہے، پاکستان کے ہر بچے کو سیکھنے، نشوونما پانے اور ایک محفوظ و روشن مستقبل تعمیر کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔








