وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اس سال آئی ٹی برآمدات چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، گزشتہ ایک سال میں دس لاکھ کے قریب پاکستانی نوجوانوں کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی مہارتوں میں تربیت دی گئی ہے۔
اس سال آئی ٹی برآمدات چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، سینیٹر محمد اورنگزیب

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اس سال آئی ٹی برآمدات چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، گزشتہ ایک سال میں دس لاکھ کے قریب پاکستانی نوجوانوں کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی مہارتوں میں تربیت دی گئی ہے۔
جمعہ کو ایوان زیریں میں آئندہ مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، یہ شعبہ ملکی ترقی اور ایکسپورٹس بڑھانے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے، گزشتہ ایک سال میں اس شعبے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبہ کی برآمدات بیس فیصد سے زائد کی سالانہ شرح نمو سے بڑھ رہی ہیں، اس سال یہ برآمدات چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، اس طرح یہ شعبہ برآمدات میں اضافے کے اعتبار سے سب سے تیزی سے بڑھنے والے شعبوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال مارچ میں5فائیو جی سپیکٹرم کی کامیابی سے نیلامی کی گئی جسے دنیا کی سب سے بڑی سپیکٹرم نیلامیوں میں شمار کیا جا رہا ہے، اس کے ذریعے پانچ شہروں میں فائیو جی سروس شروع ہو چکی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے رائٹ آف وے چارجز کو ختم کیا جس کے نتیجے میں 2024 ء کے بیس لاکھ گھروں کے مقابلے میں پچاس لاکھ گھروں میں فائبر لائنز دستیاب ہیں اور ٹیلی کام ٹاورز کی فائبرائزیشن چودہ فیصد سے بڑھ کر اٹھارہ فیصد ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کی پہلی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کی منظوری دی ہے، گزشتہ ایک سال میں دس لاکھ کے قریب پاکستانی نوجوانوں کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی مہارتوں میں تربیت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ ٹرانسفارمیشن کے تحت ہم نے ملک میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی قانونی بنیاد رکھ دی ہے، اس کے تحت نیشنل ڈیجیٹل آئی ڈی، نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر اور اوپن ڈیٹا ایکوسسٹم جیسے منصوبے شروع ہو چکے ہیں، مرکزی حکومت، عدالتی نظام اور پارلیمنٹ بھی ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر پر گامزن ہیں، یہ صرف ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان رشتے کو شفاف اور فعال تر بنانے کی سعی ہے۔








