آئندہ پانچ سے دس سال میں پاکستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرنیوالی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے،احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں امن و استحکام برقرار رہا تو آئندہ پانچ سے دس سال میں پاکستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے،پاکستانی انجینئرز مستقبل میں قومی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں اہم کردار ادا کریں گے۔

لاہور۔13جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں امن و استحکام برقرار رہا تو آئندہ پانچ سے دس سال میں پاکستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے،پاکستانی انجینئرز مستقبل میں قومی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یونیورسٹی آف نارووال میں منعقدہ طلبہ کے فائنل ایئر ڈیزائن پراجیکٹس کی نمائش ایکسپونینشیا 26 کا دورہ کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ انہیں یونیورسٹی آف نارووال آ کر ہمیشہ خوشی محسوس ہوتی ہے، ان کا خواب تھا کہ نارووال میں ایک معیاری انجینئرنگ یونیورسٹی قائم ہو اور آج اس ادارے سے ہزاروں انجینئرز فارغ التحصیل ہو کر ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ کے شاندار پراجیکٹس اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کے نوجوان غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں، اگر انہیں مناسب مواقع اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو پاکستان دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ اور روشن ہے ،نوجوانوں کو محنت، لگن اور مسلسل سیکھنے کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ دور میں دنیا تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کا دورہے، آج اقوام کے درمیان مقابلہ اسلحے کا نہیں بلکہ علم، تحقیق اور جدت کا ہے، جو قومیں علم اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھیں گی ،وہی ترقی کریں گی جبکہ پیچھے رہ جانے والی قومیں تاریخ کا حصہ بن جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں اور انجینئرنگ کی تعلیم کا بنیادی مقصد مسائل کی نشاندہی اور ان کا موثر حل تلاش کرنا ہے، پاکستان کو درپیش چیلنجز کا حل نوجوان انجینئرز کی صلاحیتوں اور اختراعی سوچ میں پوشیدہ ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام کے باعث ماضی میں متعدد ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے تاہم اگر ملک میں امن و استحکام برقرار رہا تو آئندہ پانچ سے دس سال میں پاکستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو قرضوں پر انحصار کم کر کے برآمدات میں اضافہ کرنا اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کو متعارف کرانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ کا شعبہ ملکی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے ، پاکستانی انجینئرز مستقبل میں قومی ترقی و خوشحالی کے سفر میں اہم کردار ادا کریں گے۔ طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھاریں، جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ رہیں اور پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کریں۔نمائش میں کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ، سول انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ، مکینیکل انجینئرنگ، آرکیٹیکچر اور بائیو میڈیکل انجینئرنگ کے طلبہ نے اپنے فائنل ایئر پراجیکٹس پیش کئے ۔ وفاقی وزیر نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں شیلڈز بھی تقسیم کیں۔

 

مزید خبریں