کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) اور ملک کی 6 بڑی ریاستوں کے درمیان بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں نجی سرمایہ کاری لانے اور ‘خود مختاری کے ماڈل’ پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے
بگ بیش لیگ (بی بی ایل) کی نجکاری پر کرکٹ آسٹریلیا اور ریاستوں میں اصولی اتفاق، کھلاڑیوں کی تنظیم کا شدید احتجاج

مزید خبریں
میلبورن۔15جون (اے پی پی):کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) اور ملک کی 6 بڑی ریاستوں کے درمیان بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں نجی سرمایہ کاری لانے اور ‘خود مختاری کے ماڈل’ پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے، تاہم آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن (اے سی اے) کی شدید مخالفت کے باعث اب بھی بڑے چیلنجز برقرار ہیں۔ای ایس پی این کے مطابق میلبورن میں کرکٹ آسٹریلیا کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بگ بیش لیگ میں نجی سرمایہ کاری کے اگلے مرحلے پر بڑھنے کے لیے مضبوط اتفاقِ رائے پایا گیا ہے۔ اس نئے ماڈل کے تحت ہر ریاست کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرے کہ اسے اپنی بگ بیش ٹیم کے شیئرز کب اور کس وقت مارکیٹ میں فروخت کرنے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ نیو ساؤتھ ویلز، کوئینز لینڈ اور ساؤتھ آسٹریلیا نے اس تجویز پر ہچکچاہٹ کے بعد رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس معاہدے کے تحت کرکٹ وکٹوریہ مارکیٹ میں اپنی ٹیمیں بیچنے والی پہلی ریاست بن سکتی ہے۔اس اصولی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 4 اہم شرائط رکھی گئی ہیں، بگ بیش لیگز کے نئے گورننس سٹرکچر پر اتفاق کیا جائے گا۔ نئے آپریٹنگ ماڈل کے تحت کرکٹ آسٹریلیا کے اپنے گورننس سٹرکچر میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔ آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن (اے سی اے) کے ساتھ اس ماڈل کے طریقہ کار پر حتمی معاہدہ کیا جائے گا۔ کرکٹ آسٹریلیا اور تمام ریاستوں کے درمیان مستقبل کے فنڈز اور آمدنی کی تقسیم کا فارمولا طے ہوگا۔دوسری جانب، سب سے بڑی رکاوٹ کھلاڑیوں کی تنظیم (اے سی اے) بنی ہوئی ہے۔ تنظیم کے چیف ایگزیکٹو پال مارش نے کھلاڑیوں کو بھیجے گئے ایک ای میل میں واضح کیا ہے کہ وہ کرکٹ آسٹریلیا کے موجودہ نجکاری ماڈل کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔ کرکٹ وکٹوریہ کی جانب سے میلبورن سٹارز اور میلبورن رینیگیڈز کی انتظامیہ کو ضم کرنے اور رینیگیڈز کی فرینچائز کو مکمل طور پر فروخت کرنے کے فیصلے پر کھلاڑیوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیرڈ نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آسٹریلین کرکٹ کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہے، تاہم ویمن بگ بیش لیگ (ڈبلیو بی بی ایل ) کے اکتوبر اور مینز بگ بیش لیگ (بی بی ایل) کے دسمبر میں شروع ہونے والے 2026-27 کے سیزن کے لیے اس نجکاری کے فوری نفاذ میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ کرکٹ آسٹریلیا کا اصل ہدف ان تمام تبدیلیوں کو 2027-28 کے سیزن تک مکمل طور پر نافذ کرنا ہے۔








